حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 279

۲۷۹ فر ہی آتی ہے وہ چاند کو ڈ بلا نہیں کر دیتی۔یہی خدا کی معرفت کا ایک بھید اور تمام نظام روحانی کا مرکز ہے کہ خدا کے کلمات سے ہی دنیا کی پیدائش ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۳ ۴۲۴) جب میں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور اُن کی عظمت اور عجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادہ الہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہو گیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے۔تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس مادہ سے بنایا؟ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۵ حاشیه ) خدا تعالیٰ جو ہمارا خدا کہلاتا ہے اُس کی خُدائی کی اصل حقیقت ہی یہی ہے کہ وہ ایک مبدء فیض وجود ہے جس کے ہاتھ سے سب وجودوں کا نمود ہے۔اُسی سے اس کا استحقاق معبودیت پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہم بخوشی دل قبول کرتے ہیں کہ اس کا ہمارے بدن و دل و جان پر قبضہ استحقاقی قبضہ ہے۔کیونکہ ہم کچھ بھی نہ تھے اسی نے ہم کو وجود بخشا۔پس جس نے عدم سے ہمیں موجود کیا وہ کامل استحقاق سے ہمارا مالک ہے۔شخبۂ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) اصل بات یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے جس سے وہ خدا کہلاتا ہے وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔مثلاً جانداروں کے جسم کو جو اوس نے آنکھیں عطا کی ہیں اس کام میں اس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اُس نے یہ آنکھیں بنائیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اُس نے ذرات جسم میں پہلے سے یہ پوشیدہ طاقتیں پیدا کر رکھی تھیں جن میں بینائی کا نور پیدا ہو سکے۔پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں۔کیونکہ بقول شخصے کہ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام“ اس بینائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں خدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذراتِ عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوتیں تو خدائی بے کار رہ جاتی۔پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اوس نے روحوں اور ذرات عالم کی تمام قو تیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خود اُن میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں اور رکھتا ہے۔پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں۔اور اسی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہوسکتا کیونکہ گو کوئی شخص ریل کا موجد ہو یا تار کا یا فوٹو گراف کا یا پریس کا یا کسی اور صنعت کا اس کو