حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 272

۲۷۲ فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صد ہا طور کا اجمال باقی ہے مجموعہ قوانین قدرت خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی طرح ضد نہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خدائے تعالیٰ کا فعل ہرگز تجاوز نہیں کر سکتا۔میں سوچ میں ہوں کہ کیونکر ایسی چیزیں کامل اور قطعی طور پر مقیاس الصداقت یا میزان الحق ٹھہر سکتی ہیں جن کے اپنے ہی پورے طور کے انکشاف میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں اور اس پیچ در پیچ معما نے یاں تک حکماء کو حیران اور سرگردان کر رکھا ہے کہ بعض اُن میں سے حقائق اشیاء کے منکر ہی ہو گئے (منکرین حقائق کا وہی گروہ ہے جس کو سوفسطائی کہتے ہیں ) اور بعض اُن میں سے یہ بھی کہہ گئے کہ اگر چہ خواص اشیاء ثابت ہیں تاہم دائمی طور پر ان کا ثبوت نہیں پایا جاتا۔پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔مگر ممکن ہے کہ کسی ارضی یا سماوی تاثیر سے کوئی چشمہ پانی کا اس خاصیت سے باہر آ جائے۔آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔مگر ممکن ہے کہ ایک آگ بعض موجبات اندرونی یا بیرونی سے اس خاصیت کو ظاہر نہ کر سکے کیونکہ ایسی عجائب باتیں ہمیشہ ظہور میں آتی رہتی ہیں۔حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تاثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو نا واقف اور بے خبر لوگوں کو بطور خارق عادت معلوم دیتی ہیں اور کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں ایسا کچھ ہوتا رہتا ہے کہ کچھ عجائبات آسمان میں یا زمین میں ظاہر ہوتے ہیں جو بڑے بڑے فیلسوفوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں۔اور پھر فلسفی لوگ اُن کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ اور متندم ہو کر کچھ نہ کچھ تکلفات کر کے طبعی یا ہیئت میں اُن کو گھسیڑ دیتے ہیں تا ان کے قانون قدرت میں کچھ فرق نہ آ جائے۔ایسا ہی یہ لوگ ادھر کے اُدھر لگا کر اور نئی باتوں کو کسی علمی قاعدہ میں جبراً دھنسا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔جب تک پر دار مچھلی نہیں دیکھی گئی تھی تب تک کوئی فلسفی اس کا قائل نہ تھا اور جب تک متواتر دم کے کٹنے سے دم کٹے کٹتے پیدا نہ ہونے لگے تب تک اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے کوئی ایسی آگ نہ نکلی کہ وہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی مگر لکڑی کو جلا نہیں سکتی تھی تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا خلاف قانون قدرت سمجھتے رہے۔جب تک اپنی ریٹر کا آلہ نہیں نکلا تھا کسی فلسفی کو معلوم تھا کہ عمل ٹرینس فیوژن آف بلڈ ( یعنی ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں داخل کرنا ) قانون فطرت میں داخل ہے؟ بھلا اس فلاسفر کا نام لینا چاہئے جو الیکٹرک مشین یعنی بجلی کی کل نکلنے سے پہلے اس بجلی لگانے کے عمل کا قائل تھا ؟ علامه شارح قانون جو طبیب حاذق اور بڑا بھاری فلسفی ہے ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے جو