حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 271
۲۷۱ مشاہدات جدیدہ جلوہ گر ہوئے انہی کے موافق اُن کی راؤں کی پڑی بدلتی اور الٹتی پلٹتی رہی۔اور جدھر تجارب جدیدہ کا رُخ پلٹتا رہا اُدھر ہی ان کے خیالات کی ہوائیں پلٹا کھاتی رہیں۔غرض فلسفیوں کے خیالات کی لگام ہمیشہ امور جدید الظہور کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی بہت کچھ اُن کی نظروں سے چھپا ہوا ہے جس کی نسبت اُمید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ ٹھوکریں کھا کھا کر اور طرح طرح کی رسوائیاں اٹھا اٹھا کر کسی نہ کسی وقت قبول کریں گے۔کیونکہ قوانین قدرت انسانی عقل کے دفتر میں ابھی تک ایسے منضبط نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں جن پر نظر کر کے نئی تحقیقاتوں سے نو امیدی ہو۔کیا کوئی عقلمند خیال کرسکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ میں باوجود اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرار ازلی ابدی سے بکلی فراغت پا چکا ہے اور اب اس کا تجربہ عجائبات الہیہ پر ایسا محیط ہو گیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے۔میں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور ابلہ آدمی کے کوئی دانشمند نہیں کر سکتا۔فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک دانا اور بچے روحانی آدمی گذرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کر لیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہو سکتے۔یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالی کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔سواس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہو سکتیں گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلا سفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قو تیں خرچ کریں تو کوئی عظمند ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کر لیں۔سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں اسی قدر پر ختم ہیں۔اس سے زیادہ کوئی ہے مجھی کی بات نہیں۔اب خلاصہ اس تمام مقدمہ کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہو گیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو کھسک گیا ہے یا کسی خارجی قاسر سے مجبور کیا گیا ہے اور مجبوراً آئندہ کے عجائب کاموں سے دستکش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے وہی چند صدیوں کی کارگذاری ( یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ لو ) چھوڑ گیا ہے۔اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور