حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 270
۲۷۰ خدائے تعالیٰ کی خدائی اور الوہیت اس کی قدرت غیر محدودہ اور اسرار نا معدودہ سے وابستہ ہے جس کو قانون کے طور پر کسی حد کے اندر گھیر لینا انسان کا کام نہیں ہے۔خدا شناسی کے لئے یہ بڑا بھاری بنیادی مسئلہ ہے کہ خدائے ذوالجلال کی قدرتیں اور حکمتیں بے انتہا ہیں۔اس مسئلہ کی حقیقت سمجھنے اور اس پر عمیق غور کرنے سے سب الجھاؤ اور پیچ خیالات کا رفع ہو جاتا ہے اور سیدھا راہ حق شناسی اور حق پرستی کا نظر آنے لگتا ہے ہم اس جگہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ خدائے تعالیٰ ہمیشہ اپنی ازلی ابدی صفات کے موافق کام کرتا ہے اور اگر ہم دوسرے لفظوں میں انہی ازلی ابدی صفات پر چلنے کا نام قانون الہی رکھیں تو بے جا نہیں مگر ہمارا کلام اور بحث اس میں ہے کہ وہ آثار صفات ازلی ابدی یا یوں کہو کہ وہ قانون قدیم الہی محدود یا معدود کیوں مانا جائے۔ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہئے کہ جو کچھ صفتیں جناب الہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفات غیر محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امراُن کا غیر۔اور وہ صفات ہر یک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہو رہی ہیں اور انہی آثار الصفات کا نام سنت اللہ یا قانون قدرت ہے مگر چونکہ خدائے تعالیٰ معہ اپنی صفات کاملہ کے غیر محدود اور غیر متناہی ہے اس لئے ہماری بڑی نادانی ہو گی اگر ہم یہ دعوی کریں کہ اس کے آثار الصفات یعنی قوانین قدرت باندازہ ہمارے تجربہ یا فہم یا مشاہدہ کے ہیں اس سے بڑھ کر نہیں۔آج کل کے فلسفی الطبع لوگوں کی یہ بڑی بھاری غلطی ہے کہ اوّل وہ قانونِ قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی من کل الوجوہ حد بست ہو چکی ہے اور پھر بعد اس کے جو امر نیا پیش آئے اس کو ہرگز نہیں مانتے۔اور ظاہر ہے کہ اس خیال کی بناء راستی پر نہیں ہے۔اور اگر یہی سچ ہوتا تو پھر کسی نئی بات کے ماننے کے لئے کوئی سبیل باقی نہ رہتا۔اور امور جدیدہ کا دریافت کرنا غیر ممکن ہو جاتا۔کیونکہ اس صورت میں ہر ایک نیافعل بصورت نقص قوانین طبعی نظر آئے گا۔اور اس کے ترک کرنے سے ناحق ایک جدید صداقت کو ترک کرنا پڑے گا۔اگر کوئی صفحات تاریخ زمانہ میں واقعات سوانح عمری حکماء پر غور کرے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ اُن کے خیالات کی ٹرین کتنی مختلف سڑکوں یا یہ کہ کس قدر متناقص چالوں پر چلی ہے اور کیسے داغ خجالت اور ندامت کے ساتھ ایک رائے کو دوسری رائے سے تبدیل کرتے آئے ہیں اور کیونکر انہوں نے ایک مدت دراز تک کسی بات کا انکار کر کے اور قانون قدرت سے اس کو باہر سمجھ کر آخر نہایت منند مانہ حالت میں اسی بات کو قبول کر لیا ہے سو اس تبدیل آراء کا کیا سبب تھا؟ یہی تو تھا کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا تھا وہ ایک ظنی بات تھی جس کی مشاہدات جدیدہ نے تکذیب کی۔سوجن شکلوں اور حالتوں میں وہ