حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 268
۲۶۸ خیال سے یہ دونوں خرابیاں پیدا ہوگئیں یعنی اواگون اور دیوتا پرستی۔(شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۷، ۴۰۸) قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے در مشین متفرق اشعار صفحه ۱۵۸ شائع کرده نظارت اشاعت صدرانجمن احمد یہ ربوہ ) ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اُس کے ہو گئے ہیں وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادار نہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱) اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔جب ایک شخص اس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضا مندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں۔وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں۔اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اُس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطافت ہے کہ گویا میت ہے۔خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مر گیا ہے مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق کرتا ہے اور چونکہ کوئی شخص اس کے قانون کی حد بست نہیں کر سکتا اس لئے جلدی سے بغیر کسی قطعی دلیل کے جو روشن اور بد یہی ہو یہ اعتراض کرنا کہ فلاں امر قانونِ قدرت کے مخالف ہے محض حماقت ہے کیونکہ جس چیز کی ابھی حد بست نہیں ہوئی اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل قائم ہے اس کی نسبت کون رائے زنی کر سکتا ہے؟ (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۰۴، ۱۰۵) اگر خدا کو قادر نہ مانا جاوے تو پھر اس سے ساری اُمیدیں باطل ہو جاتی ہیں۔کیونکہ ہماری دعاؤں کی