حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 267
۲۶۷ خدا تعالیٰ دنیا میں تین قسم کے کام کیا کرتا ہے۔(۱) خدائی کی حیثیت سے (۲) دوسری دوست کی حیثیت سے (۳) تیسرے دشمن کی حیثیت سے۔جو کام عام مخلوقات سے ہوتے ہیں وہ محض خدائی حیثیت سے ہوتے ہیں۔اور جو کام محبین اور محبوبین سے ہوتے ہیں وہ نہ صرف خدائی حیثیت سے بلکہ دوستی کی حیثیت کا رنگ ان پر غالب ہوتا ہے۔اور صریح دنیا کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا اوس شخص کی دوستانہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔اور جو کام دشمنوں کی حیثیت سے ہوتے ہیں اُن کے ساتھ ایک موذی عذاب ہوتا ہے اور ایسے نشان ظاہر ہوتے ہیں جن سے صریح دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم یا اس شخص سے دشمنی کر رہا ہے اور خدا جو اپنے دوست کے ساتھ کبھی یہ معاملہ کرتا ہے جو تمام دنیا کو اس کا دشمن بنا دیتا ہے اور کچھ مدت کے لئے ان کی زبانوں یا اُن کے ہاتھوں کو اُس پر مسلط کر دیتا ہے یہ اس لئے خدائے غیور نہیں کرتا کہ اس اپنے دوست کو ہلاک کرنا چاہتا ہے یا بے عزت اور ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ تا دنیا کو اپنے نشان دکھاوے اور تا شوخ دیدہ مخالفوں کو معلوم ہو کہ انہوں نے دشمنی میں ناخنوں تک زور لگا کر نقصان کیا پہنچایا۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۱۸،۵۱۷) قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کے اسماء مفعول کے لفظ میں نہیں جیسے قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں لکھا کیونکہ پھر بچانے والا اور ہو گا۔(الحکم، مورخه ۱ار نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۴۴۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرات اجسام وہ خدا سے غافل ہیں ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں اور ترقیات سے نئی نئی روح وہ ہم میں پھونکتا ہے اگر وہ نیست سے ہست کرنے والا نہ ہوتا تو ہم تو زندہ ہی مرجاتے۔عجیب ہے وہ خدا جو ہمارا خدا ہے کون ہے جو اس کی مانند ہے؟ اور عجیب ہیں اس کے کام۔کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔وہ قادر مطلق ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۵) در حقیقت نفی صفات الہی کی کرنا اور خدا تعالیٰ کو قا درانہ تصرف سے معطل سمجھنا یہی اصل موجب دیوتا پرستی اور تناسخ کا ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ اپنے مدبرانہ کاموں سے معطل خیال کیا گیا تو حاجت براری کے لئے دیوتے گھڑے گئے اور تقدیری تغیرات اور انقلابات کو گذشتہ عملوں کا نتیجہ ٹھہرایا گیا سو اس ایک ہی