حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 260
۲۶۰ ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا وَمَا كَانَ مَعَهُ مِن الله الخ لے یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کا ملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پا تا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد اُن میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور اُن کے آرام کے لئے دوسروں کا بر باد کرنا روا رکھتا پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔یہاں تک تو دلیل لمّی سے خدا کا واحد لاشریک ہونا ثابت کیا۔پھر بعد اس کے خدا کے وحدہ لاشریک ہونے پر دلیل انی بیان فرمائی اور کہا قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمُ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشَفَ القُرِ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا الخ لا یعنی مشركين اور منکرین وجود حضرت باری کو کہہ کہ اگر خدا کے کارخانہ میں کوئی اور لوگ بھی شریک ہیں یا اسباب موجودہ ہی کافی ہیں تو اس وقت کہ تم اسلام کے دلائلِ حقیت اور اس کی شوکت اور قوت کے مقابلہ پر مقہور ہو رہے ہو ان اپنے شرکاء کو مدد کے لئے بلاؤ اور یا درکھو وہ ہر گز تمہاری مشکل کشائی نہ کریں گے اور نہ بلا کو تمہارے سر پر سے ٹال سکیں گے۔اے رسول ! ان مشرکین کو کہہ کہ تم اپنے شرکاء کو جن کی پرستش کرتے ہو میرے مقابلہ پر بلاؤ اور جو تد بیر میرے مغلوب کرنے کے لئے کر سکتے ہو وہ سب تدبیریں کرو اور مجھے ذرا مہلت مت دو اور یہ بات سمجھ رکھو کہ میرا حامی اور ناصر اور کارساز وہ خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور وہ اپنے بچے اور صالح رسولوں کی آپ کارسازی کرتا ہے مگر جن چیزوں کو تم لوگ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہو وہ ممکن نہیں ہے جو تمہاری مدد کر سکیں اور نہ کچھ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔پھر بعد اس کے خدا کا ہر یک نقصان اور عیب سے پاک ہونا قانون قدرت کے رُو سے ثابت کیا اور فرمایا تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ الحَ ہے یعنی ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے خدا کی تقدیس کرتے ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اس کی تقدیس نہیں کرتی۔پر تم اُن کی تقدیسوں کو سمجھتے نہیں۔یعنی زمین آسمان پر نظر غور کرنے سے خدا کا کامل اور مقدس ہونا اور بیٹوں اور شریکوں سے پاک ہونا ثابت ہو رہا ہے۔مگر ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔پھر بعد اس کے جزئی طور پر مخلوق پرستوں کو ملزم کیا اور اُن کا خطا پر ہونا ظاہر فرمایا اور کہا قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ الخ ہے یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔حالانکہ بیٹے کا الانبياء : ۲۳ - المؤمنون: ۹۲ ۳ بنی اسرآئیل: ۵۷ ۳ بنی اسرآئیل: ۴۵ ۵ یونس: ۶۹