حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 251

۲۵۱ فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے۔اور اُسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے۔اور اس فیضان کا وجود بھی ملاحظہ قانون قدرت سے ثابت ہے کیونکہ یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ خدا کی راہ میں سعی کرنے والے اور غافل رہنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔بلاشبہ جو لوگ دل کی سچائی سے خدا کی راہ میں کوشش کرتے ہیں۔اور ہر یک تاریکی اور فساد سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ایک خاص رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے۔اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ کا نام قرآن شریف میں رحیم ہے اور یہ مرتبہ صفت رحیمیت کا بوجہ خاص ہونے اور مشروط بشرائط ہونے کے مرتبہ صفت رحمانیت سے مؤخر ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے اوّل صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی۔پس اسی ترتیب طبعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فرمایا اور کہا الرحمن الرحیم۔اور صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔جیسا ایک جگہ فرمایا ہے۔وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا لا یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمان داروں سے خاص ہے جس سے کا فر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا۔لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ گانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحْمَانًا۔بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے۔ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ کے یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا في سَبِيلِ اللهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَ اللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ سے یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے۔یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور اُن لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔عاشق که شد که یار بحالش نظر نه کرد اے خواجہ درد نیست وگرنه طبیب ہست ۴ چوتھا تم فیضان کا فیضانِ اخص ہے۔یہ وہ فیضان ہے کہ جو صرف محنت اور سعی پر مترتب نہیں ہوسکتا الاحزاب: ۴۴ الاعراف: ۵۷ البقرة : ٢١٩ ے کون عاشق بنا کہ محبوب نے اس کے حال پر توجہ نہ کی ہو۔حضرت درد ہی نہیں ورنہ طبیب تو موجود ہے۔