حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 250
۲۵۰ تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمن بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمن کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک بُرے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔جیسا ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔عَذَابی أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ا یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچا تا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کوگھیر رکھا ہے اور پھر ایک اور موقع پر فرمایا قُلْ مَنْ يَكُلَو كُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰن ہے یعنی ان کافروں اور يَكُلَؤُكُمْ نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے۔یعنی اس کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا۔پھر ایک اور جگہ اسی رحمانیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صِفْتٍ وَيَقْبِضُنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ کے الجز و نمبر ۲۹۔یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اُڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ باز و کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں۔رحمن ہی ہے کہ اُن کو گرنے سے تھام رکھتا ہے۔یعنی فیضانِ رحمانیت ایسا تمام ذی روحوں پر محیط ہو رہا ہے کہ پرندے بھی جو ایک پیسہ کے دو تین مل سکتے ہیں وہ بھی اس فیضان کے وسیع دریا میں خوشی اور سرور سے تیر رہے ہیں۔اور چونکہ ربوبیت کے بعد اسی فیضان کا مرتبہ ہے اس جہت سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں رب العالمین کی صفت بیان فرما کر پھر اس کے رحمن ہونے کی صفت بیان فرمائی تا ترتیب طبعی ان کی ملحوظ رہے۔تیسری قسم فیضان کی فیضانِ خاص ہے۔اس میں اور فیضان عام میں یہ فرق ہے کہ فیضان عام میں مستفیض پر لازم نہیں کہ حصول فیض کے لئے اپنی حالت کو نیک بناوے اور اپنے نفس کو حجب ظلمانیہ سے باہر نکالے یا کسی قسم کا مجاہدہ اور کوشش کرے۔بلکہ اس فیضان میں جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدائے تعالیٰ آپ ہی ہر یک ذی روح کو اُس کی ضروریات جن کا وہ حسب فطرت محتاج ہے عنایت فرماتا ہے اور بن مانگے اور بغیر کسی کوشش کے مہیا کر دیتا ہے لیکن فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیہ قلب اور دُعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقعہ ہو شرط ہے۔اور اس الاعراف: ۱۵۷ الانبياء : ۴۳ الملک: ۲۰