حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 246

۲۴۶ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى یعنی وہ ایسا خدا ہے کہ جسموں کا بھی پیدا کرنے والا اور روحوں کا بھی پیدا کرنے والا۔رحم میں تصویر کھینچنے والا ہے۔تمام نیک نام جہاں تک خیال میں آ سکیں سب اُسی کے نام ہیں اور پھر فرمایا يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - یعنی آسمان کے لوگ بھی اس کے نام کو پاکی سے یاد کرتے ہیں اور زمین کے لوگ بھی۔اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ آسمانی اجرام میں آبادی ہے اور وہ لوگ بھی پابند خدا کی ہدایتوں کے ہیں اور پھر فرمایا۔عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ - یعنی خدا بڑا قادر ہے۔یہ پرستاروں کے لئے تسلی ہے کیونکہ اگر خدا عاجز ہو اور قادر نہ ہو تو ایسے خدا سے کیا اُمید رکھیں اور پھر فرمایا۔رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔یعنی وہی خدا ہے جو تمام عالموں کا پرورش کرنے والا۔رحمن رحیم اور جزا کے دن کا آپ مالک ہے۔اس اختیار کو کسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ہر ایک پکارنے والے کی پکار کو سننے والا اور جواب دینے والا یعنی دعاؤں کا قبول کرنے والا۔اور پھر فرمایا۔اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ یعنی ہمیشہ رہنے والا اور تمام جانوں کی جان اور سب کے وجود کا سہارا۔یہ اس لئے کہا کہ وہ ازلی ابدی نہ ہو تو اس زندگی کے بارے میں بھی دھڑ کا ر ہے گا کہ شاید ہم سے پہلے فوت نہ ہو جائے اور پھر فرمایا کہ وہ خدا اکیلا خدا ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ کوئی اُس کے برابر اور نہ کوئی اس کا ہم جنس۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۲ تا ۳۷۶) خدا تعالی کی چار اعلیٰ درجہ کی صفتیں ہیں جو اُم الصفات ہیں اور ہر ایک صفت ہماری بشریت سے ایک امر مانگتی ہے۔اور وہ چار صفتیں یہ ہیں۔ربوبیت، رحمانیت، رحیمیـت ، مالكيت يوم الدين۔(1) ربوبیت۔اپنے فیضان کے لئے عدم محض یا مشابہ بالعدم کوچاہتی ہے اور تمام انواع مخلوق کی جاندار ہوں یا غیر جاندار اسی سے پیرایہ وجود پہنتے ہیں۔(۲) رحمانیت اپنے فیضان کے لئے صرف عدم کو ہی چاہتی ہے یعنی اس عدم محض کو جس کے وقت میں وجود کا کوئی اثر اور ظہور نہ ہو اور صرف جانداروں سے تعلق رکھتی ہے اور چیزوں سے نہیں۔(۳) رحیمیت اپنے فیضان کے لئے موجود ذوالعقل کے مُنہ سے نیستی اور عدم کا اقرار چاہتی ہے