حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 247
۲۴۷ اور صرف نوع انسان سے تعلق رکھتی ہے۔(۴) مالكيت يوم الدین اپنے فیضان کے لئے فقیرانہ تضرع اور الحاح کو چاہتی ہے اور صرف اُن انسانوں سے تعلق رکھتی ہے جو گداؤں کی طرح حضرت احدیت کے آستانہ پر گرتے ہیں اور فیض پانے کے لئے دامنِ اخلاص پھیلاتے ہیں اور سچ سچ اپنے تئیں تہی دست پا کر خدا تعالیٰ کی مالکیت پر ایمان لاتے ہیں۔یہ چار الہی صفتیں ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے جو رحیمیت کی صفت ہے وہ دُعا کی تحریک کرتی ہے اور مالکیت کی صفت خوف اور قلق کی آگ سے گداز کر کے سچا خشوع اور خضوع پیدا کرتی ہے کیونکہ اس صفت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ مالک جزا ہے کسی کا حق نہیں جو دعویٰ سے کچھ طلب کرے اور مغفرت اور نجات محض فضل پر ہے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۳٬۲۴۲) سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرما ئیں۔یعنی رب العالمين۔رحمن۔رحيم۔مالک یوم الدین اور ان چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمن کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب سے اخیر صفت ما لک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہئے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبیعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا پر خدا کا چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے جو غور کرنے سے ہر یک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔پہلا فيضان فيضان اعم ہے۔یہ وہ فیضانِ مطلق ہے کہ جو بلا تمیز ذی روح و غیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الا تصال جاری ہے اور ہر یک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندار اس سے باہر نہیں۔اسی سے وجود تمام ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہر یک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے۔اگر ایک لمحہ منقطع ہو جائے تو تمام عالم نابود ہو جائے اور اگر نہ ہوتا تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے اور اسی کے رو سے خدا کا نام رب العلمین ہے جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔وَ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْ ! الجز ونمبر ۸ یعنی خدا ہر یک چیز کا رب ہے اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں الانعام : ۵