حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 243
۲۴۳ ان کی تجلی نہیں ہوگی کیونکہ صفات الہیہ کا تعطل ممتنع ہے بلکہ حقیقی صفت خدا تعالیٰ کی محبت اور رحم ہے اور وہی اُم الصفات ہے اور وہی کبھی انسانی اصلاح کے لئے صفات جلالیہ اور غضبيه کے رنگ میں جوش مارتی ہے اور جب اصلاح ہو جاتی ہے تو محبت اپنے رنگ میں ظاہر ہو جاتی ہے اور پھر بطور موہبت ہمیشہ کے لئے رہتی ہے۔خدا ایک چڑ چڑے انسان کی طرح نہیں ہے جو خواہ نخواہ عذاب دینے کا شائق ہو اور وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے پر آپ ظلم کرتے ہیں۔اس کی محبت میں تمام نجات اور اس کو چھوڑنے میں تمام عذاب ہے۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۰،۳۶۹) جاننا چاہئے کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اُس کی اُس نے یہ صفات لکھی ہیں۔هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْمَلِكُ الْقَدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوَّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ : أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ۔یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں۔یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شائد اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے۔اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی۔اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہوسکتا وہی خدا ہے جس کی پرستش میں ادنیٰ کو شریک کرنا ظلم ہے۔پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے الحشر : ۲۳ ۲ الفاتحة :۴ الحشر : ۲۴ الفاتحة : ۲ تا ۲۴ - البقرة : ۱۸۷ البقرة : ۲۵۶ الحشر: ۲۵ الاخلاص :۲ تا ۵ البقرة: ٢١