حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 242
۲۴۲ کسی صفت سے مشابہت نہیں۔مثلاً انسان اپنے غضب کے وقت پہلے غضب کی تکلیف آپ اُٹھاتا ہے اور جوش و غضب میں فوراً اس کا سرور دُور ہو کر ایک جلن سی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ایک مادہ سوداوی اُس کے دماغ میں چڑھ جاتا ہے اور ایک تغیر اس کی حالت میں پیدا ہو جاتا ہے۔مگر خدا ان تغیرات سے پاک ہے۔اور اس کا غضب ان معنوں سے ہے کہ وہ اس شخص سے جو شرارت سے باز نہ آوے اپنا سایہ حمایت اٹھا لیتا ہے اور اپنے قدیم قانون قدرت کے موافق اس سے ایسا معاملہ کرتا ہے جیسا کہ ایک غضبناک انسان کرتا ہے۔لہذا استعارہ کے رنگ میں وہ معاملہ اس کا غضب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایسا ہی اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں کیونکہ انسان غلبہ محبت میں بھی دُکھ اٹھاتا ہے اور محبوب کے علیحدہ اور جدا ہونے سے اس کی جان کو تکلیف پہنچتی ہے مگر خدا ان تکالیف سے پاک ہے۔ایسا ہی اس کا قرب بھی انسان کے قرب کی طرح نہیں کیونکہ انسان جب ایک کے قریب ہوتا ہے تو اپنے پہلے مرکز کو چھوڑ دیتا ہے۔مگر وہ باوجود قریب ہونے کے دُور ہوتا ہے اور باوجود دُور ہونے کے قریب ہوتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی ہر ایک صفت انسانی صفات سے الگ ہے اور صرف اشتراک لفظی ہے اس سے زیادہ نہیں۔اسی لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ یعنی کوئی چیز اپنی ذات یا صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر نہیں۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۶) خدا کبھی معطل نہیں ہو گا۔ہمیشہ خالق ، ہمیشہ رازق ہمیشہ رب، ہمیشہ رحمان، ہمیشہ رحیم ہے اور رہے گا۔میرے نزدیک ایسے عظیم الشان جبروت والے کی نسبت بحث کرنا گناہ میں داخل ہے۔خدا نے کوئی چیز منوانی نہیں چاہی جس کا نمونہ یہاں نہیں دیا۔(البدر مورخه ۶ ارجنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۱ کالم نمبر۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۶۳۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یادر ہے کہ جس طرح ستارے ہمیشہ نوبت به نوبت طلوع کرتے رہتے ہیں اسی طرح خدا کے صفات بھی طلوع کرتے رہتے ہیں۔کبھی انسان خدا کے صفات جلالیہ اور استغنائے ذاتی کے پر توہ کے نیچے ہوتا ہے۔اور کبھی صفات جمالیہ کا پر تو ہ اس پر پڑتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ کے پس یہ سخت نادانی کا خیال ہے کہ ایسا گمان کیا جائے کہ بعد اس کے کہ مجرم لوگ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔پھر صفات کرم اور رحم ہمیشہ کے لئے معطل ہو جائیں گی اور کبھی الشورى :١٢ الرحمن:٣٠