حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 212
۲۱۲ میری بھی اچھی حالت ہو جائے۔اور یہ خصلت اخلاق فاضلہ میں سے ہے۔اسی طرح تمام اخلاق ذمیمہ کا حال ہے کہ وہ ہماری ہی بد استعالی یا افراط اور تفریط سے بدنما ہو جاتی ہیں۔اور موقعہ پر استعمال کرنے اور حد اعتدال پر لانے سے وہی اخلاق ذمیمہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ انسانیت کے درخت کی تمام ضروری شاخیں کاٹ کر صرف ایک ہی شاخ صبر اور عفو پر زور دیا جائے۔اسی وجہ سے یہ تعلیم چل نہیں سکی اور آخر عیسائی سلاطین کو جرائم پیشہ کی سزا کے لئے قوانین اپنی طرف سے طیار کرنے پڑے۔غرض انجیل موجودہ ہرگز نفوس انسانیہ کی تکمیل نہیں کر سکتی اور جس طرح آفتاب کے نکلنے سے ستارے مضمحل ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ آنکھوں سے غائب ہو جاتے ہیں یہی حالت انجیل کی قرآن شریف کے مقابل پر ہے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۶، ۶۷) دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہو گا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے اور یہ اس لئے نہیں کہ در حقیقت وہ تمام مذاہب ابتداء سے جھوٹے ہیں۔بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں اور جس کی آبپاشی اور صفائی کے لئے کوئی انتظام نہیں۔اس لئے رفتہ رفتہ اُن میں خرابیاں پیدا ہوگئیں۔تمام پھلدار درخت خشک ہو گئے اور اُن کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں اور روحانیت جو مذہب کی جڑ ہوتی ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے۔مگر خدا نے اسلام کے ساتھ ایسا نہ کیا اور چونکہ وہ چاہتا تھا کہ یہ باغ ہمیشہ سرسبز رہے اس لئے اُس نے ہر یک صدی پر اس باغ کی نئے سرے آبپاشی کی اور اس کو خشک ہونے سے بچایا۔اگر چہ ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لئے قائم ہوا جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے اور ان کو سخت ناگوار گذرا کہ کسی ایسی غلطی کی اصلاح ہو جو ان کی رسم اور عادت میں داخل ہو چکی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس آخری زمانہ میں جو ہدایت اور ضلالت کا آخری جنگ ہے۔خدا نے چودھویں صدی اور الف آخر کے سر پر مسلمانوں کو غفلت میں پا کر پھر اپنے عہد کو یاد کیا اور دین اسلام کی تجدید فرمائی مگر دوسرے دینوں کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ تجدید کبھی نصیب نہیں ہوئی۔اس لئے وہ سب مذہب مر گئے۔اُن میں روحانیت باقی نہ رہی اور بہت سی غلطیاں اُن میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑا پر جو کبھی دھویا نہ جائے میں جم جاتی ہے اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت