حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 206

۲۰۶ ایک فرضی خدا نہ ہو جو محض قصوں اور کہانیوں کے سہارے سے مانا گیا ہو۔اور ایسا نہ ہو کہ صرف ایک مُردہ سے مشابہت رکھتا ہو۔کیونکہ اگر ایک مذہب کا خدا صرف ایک مُردہ سے مشابہ ہے جس کا قبول کرنا محض اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے ہے نہ اس وجہ سے کہ اُس نے اپنے تئیں آپ ظاہر کیا ہے تو ایسے خدا کا ماننا گویا اُس پر احسان کرنا ہے۔اور جس خدا کی طاقتیں کچھ محسوس نہ ہوں اور اپنے زندہ ہونے کے علامات وہ آپ ظاہر نہ کرے اُس پر ایمان لانا بے فائدہ ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳ ۳۷۴۳۷) وہ مذہب جو محض خدا کی طرف سے ہے اُس کے ثبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ منجانب اللہ ہونے کے نشان اور خدائی مہر اپنے ساتھ رکھتا ہوتا معلوم ہو کہ وہ خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہے۔سو یہ مذہب اسلام ہے۔وہ خدا جو پوشیدہ اور نہاں در نہاں ہے اسی مذہب کے ذریعہ سے اُس کا پتہ لگتا ہے اور اسی مذہب کے حقیقی پیروؤں پر وہ ظاہر ہوتا ہے۔جو در حقیقت سچا مذہب ہے۔نیچے مذہب پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور خدا اس کے ذریعہ سے ظاہر کرتا ہے کہ میں موجود ہوں۔جن مذاہب کی محض قصوں پر بنا ہے وہ بت پرستی سے کم نہیں۔ان مذاہب میں کوئی سچائی کی رُوح نہیں ہے۔اگر خدا اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اگر وہ اب بھی بولتا اور سُنتا ہے جیسا کہ پہلے تھا تو کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ اس زمانہ میں ایسا لچپ ہو جائے کہ گویا موجود نہیں۔اگر وہ اس زمانہ میں بولتا نہیں تو یقینا وہ اب سُنتا بھی نہیں۔گویا اب کچھ بھی نہیں۔سوسچا وہی مذہب ہے کہ جو اس زمانہ میں بھی خدا کا سننا اور بولنا دونوں ثابت کرتا ہے۔غرض بچے مذہب میں خدا تعالیٰ اپنے مکالمہ مخاطبہ سے اپنے وجود کی آپ خبر دیتا ہے۔خداشناسی ایک نہایت مشکل کام ہے دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کا کام نہیں ہے جو خدا کا پتہ لگاویں۔کیونکہ زمین و آسمان کو دیکھ کر صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ترکیب محکم اور ابلغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے۔مگر یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت وہ صانع موجود بھی ہے۔اور ہونا چاہئے اور ہے میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے۔پس اس وجود کا واقعی طور پر پتہ دینے والا صرف قرآن شریف ہے جو صرف خدا شناسی کی تاکید نہیں کرتا بلکہ آپ دکھلا دیتا ہے اور کوئی کتاب آسمان کے نیچے ایسی نہیں ہے کہ اس پوشیدہ وجود کا پتہ دے۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۲،۳۵۱) یادر ہے کہ محض خشک جھگڑے اور سب وشتم اور سخت گوئی اور بد زبانی جو نفسانیت کی بنا پر مذہب کے نام پر ظاہر کی جاتی ہے اور اپنی اندرونی بدکاریوں کو دُور نہیں کیا جاتا اور اس محبوب حقیقی سے سچا تعلق پیدا