حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 197
۱۹۷ واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔جس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اترتا تھا۔وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور با اقبال تھا۔جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا۔وہ اپنے زمانہ کا در حقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔وہ خدا کی محبت سے پر تھا۔اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام ہوا تھا کہ ہے کرشن روڈر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔سو میں کرشن سے محبت کرتا ہوں کیونکہ میں اس کا مظہر ہوں۔لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۹،۲۲۸) ایک نبی کی سچائی تین طریقوں سے پہچانی جاتی ہے۔اول عقل سے یعنی دیکھنا چاہئے کہ جس وقت وہ نبی یا رسول آیا ہے عقل سلیم گواہی دیتی ہے یا نہیں کہ اس وقت اس کے آنے کی ضرورت بھی تھی یا نہیں اور انسانوں کی حالت موجودہ چاہتی تھی یا نہیں کہ ایسے وقت میں کوئی مصلح پیدا ہو؟۔دوسرے پہلے نبیوں کی پیشگوئی یعنی دیکھنا چاہئے کہ پہلے کسی نبی نے اُس کے حق میں یا اس کے زمانے میں کسی کے ظاہر ہونے کی پیشگوئی کی ہے یا نہیں تیسرے نصرت الہی اور تائید آسمانی یعنی دیکھنا چاہئے کہ اس کے شامل حال کوئی تائید آسمانی بھی ہے یا نہیں؟۔یہ تین علامتیں بچے مامور من اللہ کی شناخت کے لئے قدیم سے مقرر ہیں۔اب اے دوستو! خدا نے تم پر رحم کر کے یہ تینوں علامتیں میری تصدیق کے لئے ایک ہی جگہ جمع کر دی ہیں۔اب چاہو تم قبول کرو یا نہ کرو۔(لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۴۱) اتمام حجت کا علم محض خدا تعالیٰ کو ہے ہاں عقل اس بات کو چاہتی ہے کہ چونکہ لوگ مختلف استعداد اور مختلف فہم پر مجبول ہیں اس لئے اتمام حجت بھی صرف ایک ہی طرز سے نہیں ہو گا پس جو لوگ بوجہ علمی استعداد کے خدا کی براہین اور نشانوں اور دین کی خوبیوں کو بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور شناخت کر سکتے ہیں وہ اگر خدا کے رسول سے انکار کریں تو وہ کفر کے اول درجہ پر ہوں گے اور جو لوگ اس قد رفہم اور علم نہیں رکھتے مگر خدا کے نزدیک اُن پر بھی اُن کے فہم کے مطابق حجت پوری ہو چکی ہے اُن سے بھی رسول کے انکار کا مواخذہ ہو گا مگر نسبت پہلے منکرین کے کم۔بہر حال کسی کے کفر اور اس پر اتمام حجت