حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 196

۱۹۶ عزت نہیں دیتا جو بچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذہب جڑا نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ بچے کا جڑ پکڑتا ہے اور عمر پاتا ہے۔پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر بُرا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں۔بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو بُرا کہا جائے۔اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہئے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو بُرے الفاظ سے یاد کریں بلکہ چاہئے کہ صرف اس قوم کے موجوده دستورالعمل پر اعتراض کریں۔اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑ ہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔مفتری کو عزت دینا اور کروڑ ہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک اُس کے مفتریا نہ مذہب کو محفوظ رکھنا خدا کی عادت نہیں ہے۔سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پا جائے وہ اپنی اصلیت کے رُو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہوسکتا۔تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۶۰،۲۵۹) یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی مگر وہ وید ہر گز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اُس پاک ذات کی توہین ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۷۴ ) موجودہ وید بلاشبہ ایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے جس میں پر میشر کا بھی پتہ نہیں لگتا اور اس قدر مخلوق چیزوں کی اس میں پرستش کی تعلیم ہے کہ گویا وہ مخلوق پرستی کی ایک دوکان ہے۔پس جس جگہ ہم وید پر کوئی حملہ کرتے ہیں یا اس کی تکذیب کے دلائل پیش کرتے ہیں اس جگہ یہی موجودہ وید مراد ہے جو سراسر محرف مبدل ہے۔نہ وہ اصل دید کہ جو کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے آیا تھا۔اور ہم خدا کی تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور ایسا ہی اس وید پر جو کسی زمانہ میں ملک ہند کے کسی نبی پر نازل ہوا ہوگا۔مگر موجودہ وید کی نسبت ہم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جس قدر گندے فرقے مخلوق پرستوں کے اس ملک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سب وید کی ہی مہربانی ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۱۴)