حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 185
۱۸۵ پڑے اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے اُلٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفل بن گئے۔مگر یا درکھو کہ یہ کام وہی کرسکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجالا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو۔( ملفوظات جلد اول صفحه ۴۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) میں یہ بھی اپنی جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ وہ عربی سیکھیں کیونکہ عربی کی تعلیم کے بدوں قرآن کریم کا مزا نہیں آتا۔پس ترجمہ پڑھنے کے لئے ضروری اور مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔آج کل تو آسان آسان طریق عربی پڑھنے کے نکل آئے ہیں۔قرآن شریف کا پڑھنا جبکہ ہر مسلمان کا فرض ہے پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ عربی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کی جاوے اور ساری عمر انگریزی اور دوسری زبانوں کے حاصل کرنے میں کھودی جاوے۔( الحکم مورخہ ۱۲ مئی ۱۸۹۹ء صفحہ ۴۔ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۹۶ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) میں بڑی تاکید سے اپنی جماعت کو جہاں کہیں وہ ہیں منع کرتا ہوں کہ وہ کسی قسم کا مباحثہ مقابلہ اور مجادلہ نہ کریں۔اگر کہیں کسی کو کوئی درشت اور نا ملائم بات سننے کا اتفاق ہو تو اعراض کرے۔میں بڑے وثوق اور سچے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری تائید میں آسمان پر خاص تیاری ہو رہی ہے۔ہماری طرف سے ہر پہلو کے لحاظ سے لوگوں پر حجت پوری ہو چکی ہے۔اس لئے اب خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس کارروائی کے کرنے کا ارادہ فرمایا ہے جو وہ اپنی سنت قدیم کے موافق اتمام حجت کے بعد کیا کرتا ہے۔مجھے خوف ہے کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ بد زبانیوں اور فضول بحثوں سے باز نہ آئیں گے تو ایسا نہ ہو کہ آسمانی کارروائی میں کوئی تاخیر اور روک پیدا ہو جاوے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے وہ ان لوگوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے۔چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتا ہے۔فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلُ لَّهُمْ اور فرماتا ہے وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوْتِ اور فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ " الآية۔یہ حجت آمیز عتاب اس بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الاحقاف: ۳۶ القلم: ۴۹ ۳ الانعام: ۳۶