حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 184

۱۸۴ علیہ وسلم۔کیونکہ حضرت موسی خود بھی جلالی رنگ میں تھے۔اور حضرت عیسی نے آپ کا نام احمد بتلایا کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔اب چونکہ ہمارا سلسلہ بھی جمالی رنگ میں ہے اس واسطے اس کا نام احمدی ہوا۔الحکم مورخه ۳۱ /جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱۔ملفوظات جلد اول صفحه ۴۴۳ ۴۴۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہو گا کہ کسی مذہب پر بیہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ اُن کی مسلم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور تو ہین سے اپنے تئیں بیچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے اعتراض بھی نہ کریں جو ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔غرض ایسے اعتراض جن میں معقول تقریر کے ساتھ کسی فرقہ کے عقائد کی غلطی کا اظہار ہو ہر ایک محقق کا حق ہے جو نرمی اور ادب کے ساتھ پیش کرے۔اور حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ وہ تمام اعتراضات علمی رنگ میں ہوں تا لوگوں کو اُن سے فائدہ پہنچ سکے۔اور کوئی مفسدہ اور اشتعال پیدا نہ ہو۔(اشتہا ر واجب الاظہار ، مندرجہ کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۶،۱۵) میں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔اُن کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔مگر وہ سچا فلسفہ اُن کو نہیں ملا جو الہام الہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ اُن کو اور صرف انہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔جن کے دل اور دماغ سے متکبرانہ خیالات کا تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گوگڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ آج کل دین کی خدمت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدو جہد سے حاصل کرو۔لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا اُن کو موقعہ نہ ملا اور خود اپنے اندر الہی نور نہ رکھتے تھے وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دُور جا