حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 183

۱۸۳ زندگی ، میری موت ، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اس کی رُوح بول اٹھے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ۔جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا۔خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پانہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لئے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں۔پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لئے پسند کرتے اور خدا کے لئے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔۔۔( الحکم مورخه ۳۱ راگست ۱۹۰۰، صفه ۳ ۴۔ملفوظات جلد اول صفحه ۳۷۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) وہ نام جو اس سلسلہ کے لئے موزوں ہے جس کو ہم اپنے لئے اور اپنی جماعت کے لئے پسند کرتے ہیں وہ نام مسلمان فرقہ احمد یہ ہے۔اور جائز ہے کہ اس کو احمدی مذہب کے مسلمان کے نام سے بھی پکاریں اور اس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمد یہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا۔اور اس میں میخفی پیشگوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔سوخدا نے ان دوناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا۔اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہو گا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے۔تا اس نام کو سُنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔( تبلیغ رسالت جلد نهم صفحه ۹۰ ۹۱ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه۴۷۳۴۷۲ بار دوم ) ۰۹۱۰ لوگوں نے جو اپنے نام حنفی شافعی وغیرہ رکھے ہیں یہ سب بدعت ہیں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہی نام تھے محمد اور احد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسی نے آنحضرت کا نام محمد بتلایا۔صلی اللہ البقرة :١٣٢