حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 176

ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تعمیل نہ کرے بات نہیں بنتی جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق عباد۔اور حقوق عباد بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ ہے یا بیٹا مگر ان سب میں ایک دینی اخوت ہے اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی۔اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اُسی کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو بلکہ اگر دوزخ اور بہشت نہ بھی ہوں تب بھی اُس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہیئے کوئی فرق نہ آوے۔اس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے۔بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دُعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔اُدعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ اے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دُعا کرو تو قبول نہیں کروں گا بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنت نبوی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اسی سے مسلمان ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقی موذی نہیں ہونا چاہئے۔شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دُعا نہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں۔اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہونچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے۔ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا۔یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے۔اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے۔اور ہمت بلند ہوتی ہے۔اس لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیار نہیں کرتی اُس میں اور اُس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنیٰ درجہ کا ہے تو اس کے ساتھ نہایت رفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے اور اُن سے محبت کرنی چاہئے کیونکہ خدا کی یہ شان ہے۔بے بدال را به نیکان به بخشد کریم ۲ پس جو تم میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہئے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ المؤمن : ٦١ ے خدائے کریم نیکوں کی وجہ سے بدوں کو بھی بخش دیتا ہے۔