حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 175

۱۷۵ عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہمارا شکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں اور بائیں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔(سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۸) اور میں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھا تا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پر ہیز کریں۔مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ شر سے پر ہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجالاؤ۔اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے۔سو تم جو میرے ساتھ ہو ایسے مت ہو تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے۔کیا یہی کہ ہر وقت مردم آزاری تمہارا شیوہ ہو؟ نہیں بلکہ مذہب اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے۔اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔خدا کے لئے سب پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نو ر تمام ٹوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدرد نوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو کہ یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اُترتے ہیں۔مگر یہ ایک دن کا کام نہیں ترقی کرو تر قی کرو اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اول بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دیئے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیر میں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے۔تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور اُن کا جزو بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اُٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مار کھا کر یکدفعہ جُدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا میں تھے۔یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے۔اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۱۴، ۱۵) الشمس: ١٠