حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 171

121 تک میری جان آ جاوے تو مجھے ہرگز یہ وہم تک نہیں ہو گا کہ میں ضائع ہو جاؤں گا۔اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف وہی تعلق جو میرا خدا کے ساتھ ہے وہ بہت قوی ہے۔انسان کے لئے ٹھیک ہونے کا یہ مفت کا موقع ہے۔راتوں کو جا گو۔دعائیں کرو۔آرام کرو۔جو کسل اور سُستی کرتا ہے وہ اپنے گھر والوں اور اولاد پر ظلم کرتا ہے کیونکہ وہ تو مثل جڑھ کے ہے اور اہل وعیال اُس کی شاخیں ہیں۔تھوڑے ابتلا کا ہونا ضروری ہے جیسے لکھا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرف تو مکہ میں فتح کی خبر میں دی جاتی تھیں اور ایک طرف اُن کو جان کی بھی خیر نظر نہ آتی تھی۔اگر نبوت کا دل نہ ہوتا تو خدا جانے کیا ہوتا۔یہ اسی دل کا حوصلہ تھا۔بعض ابتلا صرف تبدیلی کے واسطے ہوتے ہیں۔عملی نمونے ایسے اعلیٰ درجہ کہ ہوں کہ اُن سے تبدیلیاں ہوں اور ایسی تبدیلی ہو کہ خود انسان محسوس کرے کہ اب میں وہ نہیں ہوں جو کہ میں پہلے تھا بلکہ اب میں ایک اور انسان ہوں۔اس وقت خدا کو راضی کر وحتی کہ تم کو بشارتیں ہوں۔کل لکھتے ہوئے ایک پرانا الہام نظر پڑا۔أَيَّامُ غَضَبِ اللَّهِ۔غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِيدًا، نُنْجِي أَهْلَ السَّعَادَةِ یہاں اہل سعادت سے مراد وہ شخص ہے جو عملی طور پر صدق دکھلاتا ہے۔خالی زبان تک ایمان کا ہونا کوئی فائدہ نہیں دیتا جیسے صحابہ نے صدق دکھلایا کہ تھیلی پر جانیں رکھ لیں اور بال بچوں تک کو قربان کیا۔مگر ہم آج ایک شخص کو اگر کہیں کہ سوکوس چلا جا تو وہ عذر کرتا ہے حتی کہ آبر وعزت کا معاملہ پیش کرتا ہے اور کاروبار کا ذکر کرتا ہے کہ کسی طرح جانے سے رہ جاوے مگر انہوں (صحابہ) نے جان، مال، آبرو، عزت سب کچھ خاک میں ملا دیا۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم پر فلاں فلاں آفت آئی حالانکہ ہم نے بیعت کی تھی مگر ہم نے بار بار جماعت کو کہا ہے کہ نری بیعت اور صرف زبان سے ماننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔چاہئے کہ خدا میں گداز ہو کر ایک نیا وجود بن جائے۔سارا قرآن دیکھو کہ کہیں بھی صرف امنوا نہیں لکھا ہے ہر جگہ عمل صالح کا ساتھ ہی ذکر ہے غرضیکہ خدا ایک موت چاہتا ہے اور میرا تجربہ ہے کہ خدا مومن پر دو موتیں ہرگز جمع نہیں کرتا کہ ایک موت تو اُس کی خدا کے واسطے ہو اور دوسری دنیا کی لعن طعن کے واسطے۔ایسے نازک وقت میں چاہئے کہ جماعت سمجھ جاوے اور ایک تیر کی طرح سیدھی ہو جاوے۔اگر ہزاروں العنكبوت: ٣ ۲ تذکره مطبوعه ۲۰۰۲ صفحه ۳۳۳ پر اس الہام کے الفاظ بحوالہ الحکم یوں مندرج ہیں "أَيَّامُ غَضَبِ اللَّهِ۔غَضِبْتُ ،، غَضَبًا شَدِيدًا۔إِنَّهُ يُنْجِي أَهْلَ السَّعَادَةِ۔(ناشر)