حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 170

۱۷۰ حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب ومولی پیدا کرنے والا اور محسن ہے اس لئے اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتا ہے۔سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذات ہیں تو وہ اپنے اعمال صالحہ اور محبت الہی کو ہرگز ہرگز چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فنا کسی پاداش یا اجر کی بناء اور امید پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ ہی کی شناخت ، اس کی محبت اور اطاعت کے لئے بنائی گئی ہے اور کوئی غرض اور مقصد اس کا ہے ہی نہیں۔اسی لئے وہ اپنی خدا دا د قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میں صرف کرتا ہے تو اس کو اپنے محبوب حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے۔بہشت و دوزخ پر اس کی اصلا نظر نہیں ہوتی۔میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزادی جاوے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دُکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔الحکم مورخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۲ء صفحه ۵ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۳۳ ۱۳۴ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہماری جماعت کو واجب ہے کہ اب تقویٰ سے کام لیوے اور اولیاء بنے کی کوشش کرے۔اس وقت زمینی اسباب کچھ کام نہ آوے گا اور نہ منصوبہ اور نہ حجت بازی کام آوے گی۔دنیا سے کیا دل لگانا ہے اور اس پر کیا بھروسہ کرنا ہے۔یہی امر غنیمت ہے کہ خدا سے صلح کی جاوے اور اس کا یہی وقت ہے ان کو یہی فائدہ اٹھانا چاہئے کہ خدا سے اسی کے ذریعہ سے صلح کر لیں۔بہت مرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ دلالہ کا کام کرتی ہیں اور انسان کو خدا سے ملا دیتی ہیں خاص ہماری جماعت کو اس وقت وہ تبدیلی یک مرتبہ ہی کرنی چاہئے جو کہ اس نے دس برس میں کرنی تھی۔اور کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں ان کو پناہ مل سکتی ہے۔اگر وہ خدا پر بھروسہ کر کے دعائیں کریں تو ان کو بشارتیں بھی ہو جاویں گی۔صحابہ پر جیسے سکینت اتری تھی ویسے ان پر اُترے گی۔صحابہ کو انجام تو معلوم نہ ہوتا تھا کہ کیا ہوگا مگر دل میں یہ تسلی ہو جاتی تھی کہ خدا ہمیں ضائع نہ کرے گا اور سکینت اسی تسلّی کا نام ہے۔جیسے میں اگر طاعون زدہ ہو جاؤں اور گلے ،