حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 160

170 صرف ایک عاجز انسان۔اس لئے وہ غفلت میں چھوڑے گئے۔میں تمہیں دنیا کے کسب اور حرفت سے نہیں روکتا مگر تم ان لوگوں کے پیرومت بنو جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے۔چاہئے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سلسلہ جاری رہے۔لیکن نہ صرف خشک ہونٹوں سے بلکہ چاہئے کہ تمہارا سچ سچ یہ عقیدہ ہو کہ ہر ایک برکت آسمان سے ہی اُترتی ہے تم راستباز اس وقت بنو گے جب کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ ہر ایک کام کے وقت ہر ایک مشکل کے وقت قبل اس کے جو تم کوئی تدبیر کرو اپنا دروازہ بند کرو اور خدا کے آستانہ پر گرو کہ ہمیں یہ مشکل پیش ہے اپنے فضل سے مشکل کشائی فرما تب رُوح القدس تمہاری مدد کرے گی۔اور غیب سے کوئی راہ تمہارے لئے کھولی جائے گی۔اپنی جانوں پر رحم کرو اور جو لوگ خدا سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں اور ہمہ تن اسباب پر گر گئے ہیں یہاں تک کہ طاقت مانگنے کے لئے وہ منہ سے انشاء اللہ بھی نہیں نکالتے اُن کے پیرومت بن جاؤ۔خدا تمہاری آنکھیں کھولے تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں؟ نہیں بلکہ یک دفعہ گریں گی اور احتمال ہے کہ ان سے کئی خون بھی ہو جائیں۔اسی طرح تمہاری تدابیر بغیر خدا کی مدد کے قائم نہیں رہ سکتیں۔اگر تم اس سے مدد نہیں مانگو گے اور اس سے طاقت مانگنا اپنا اصول نہیں ٹھہراؤ گے تو تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔آخر بڑی حسرت سے کرو گے۔یہ مت خیال کرو کہ پھر دوسری قومیں کیونکر کامیاب ہو رہی ہیں حالانکہ وہ اوس خدا کو جانتی بھی نہیں جو تمہارا کامل اور قادر خدا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ وہ خدا کو چھوڑنے کی وجہ سے دنیا کے امتحان میں ڈالی گئی ہیں۔خدا کا امتحان کبھی اس رنگ میں ہوتا ہے کہ جو شخص اُسے چھوڑتا ہے اور دنیا کی مستیوں اور لذتوں سے دل لگاتا ہے اور دنیا کی دولتوں کا خواہشمند ہوتا ہے تو دنیا کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور دین کے رو سے وہ نرا مفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مرتا اور ابدی جہنم میں ڈالا جاتا ہے۔اور کبھی اس رنگ میں بھی امتحان ہوتا ہے کہ دنیا سے بھی نامراد رکھا جاتا ہے۔مگر مؤخر الذکر امتحان ایسا خطرناک نہیں جیسا کہ پہلا۔کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے۔بہر حال یہ دونوں فریق مغضوب علیہم ہیں۔کچی خوشحالی کا سر چشمہ خدا ہے۔پس جبکہ اس حي و قيوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لاپر واہیں اور اس سے منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی ان کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے۔مبار کی ہو اس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیا وہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔اسی طرح تمہیں چاہئے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی