حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 159

۱۵۹ ان ہونی نہیں۔مگر وہی جو اس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔سو جب تم دعا کرو تو اُن جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانونِ قدرت بنا بیٹھے ہیں جس پر خدا کی کتاب کی مُہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں۔اُن کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی۔وہ اندھے ہیں نہ سوجا کھے۔وہ مردے ہیں نہ زندے۔خدا کے سامنے اپنا تراشیدہ قانون پیش کرتے ہیں۔اور اُس کی بے انتہا قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اس کو کمزور سمجھتے ہیں۔سو اُن سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا کہ اُن کی حالت ہے لیکن جب تو دُعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے تب تیری دعا منظور ہو گی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا جو ہم نے دیکھے ہیں۔اور ہماری گواہی رویت سے ہے نہ بطور قصہ کے۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۸ تا ۲۱) اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔تم سوئے ہوئے ہو گے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا۔تم دشمن سے غافل ہو گے اور خدا اُسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔اور اگر تم جانتے تو تم پر کوئی ایسا دن نہ آتا کہ تم دنیا کے لئے سخت غمگین ہو جاتے۔ایک شخص جو ایک خزانہ اپنے پاس رکھتا ہے کیا وہ ایک پیسہ کے ضائع ہونے سے روتا ہے اور چیخیں مارتا ہے اور ہلاک ہونے لگتا ہے؟ پھر اگر تم کو اس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لئے ایسے بے خود کیوں ہوتے ؟ خدا ایک پیارا خزانہ ہے اس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔تم بغیر اس کے کچھ بھی نہیں۔اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔غیر قوموں کی تقلید نہ کرو کہ جو بکلی اسباب پر گر گئی ہیں۔میں تمہیں حد اعتدال تک رعایت اسباب سے منع نہیں کرتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں کہ غیر قوموں کی طرح نرے اسباب کے بندے ہو جاؤ اور اس خدا کو فراموش کر دو جو اسباب کو بھی وہی مہیا کرتا ہے۔اگر تمہیں آنکھ ہو تو تمہیں نظر آ جائے کہ خدا ہی خدا ہے اور سب پیچ ہے۔تم نہ ہاتھ لمبا کر سکتے ہو اور نہ اکٹھا کر سکتے ہومگر اوس کے اذن سے۔ایک مُردہ اس پر ہنسی کرے گا مگر کاش اگر وہ مر جاتا تو اس ہنسی سے اس کے لئے بہتر تھا۔خبر دار !!! تم غیر قوموں کو دیکھ کر اُن کی ریس مت کرو کہ انہوں نے دنیا کے منصوبوں میں بہت ترقی کر لی ہے آؤ ہم بھی انہی کے قدم پر چلیں۔سنو اور سمجھو کہ وہ اس خدا سے سخت بیگا نہ اور غافل ہیں جو تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔اُن کا خدا کیا چیز ہے؟