حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 7
اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش و بردت کا آغاز نہیں تھا۔میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔لیکن میری پیدائش کے دنوں میں اُن کی تنگی کا زمانہ فراضی کی طرف بدل گیا تھا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا۔اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کے تھی اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں۔شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔اگر چہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تا ہم میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست اور ملک داری کی لپیٹی گئی اور وہ سلسلہ ہمارے وقت میں آ کر بالکل ختم ہو گیا اور ایسا ہوا تا کہ خدا تعالیٰ نیا سلسلہ قائم کرے جیسا کہ براہین احمدیہ میں اس سبحانہ کی طرف سے یہ الہام ہے۔سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى زَادَ مَجْدَكَ۔يَنْقَطِعُ ابَاءُ كَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ۔یعنی خدا جو بہت برکتوں والا اور بلند اور پاک ہے اُس نے تیری بزرگی کو تیرے خاندان کی نسبت زیادہ کیا۔اب سے تیرے آبا کا ذکر قطع کیا جائے گا اور خدا تجھ سے شروع کرے گا۔اور ایسا ہی اس نے مجھے بشارت دی کہ :۔و میں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ پھر میں پہلے سلسلہ کی طرف عود کر کے لکھتا ہوں کہ بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھا ئیں اور اُس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لئے ان استادوں