حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 6
تدبیریں کیں مگر جبکہ قضا و قدر ان کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیاں رہ گئی اور قادیاں اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا اور اُس کے چار بُرج تھے اور بُر جوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے اور چند تو ہیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اُس پر جا سکتے تھے۔اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اول فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیاں میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجد میں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا جس میں سے پانسونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخرسکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردوزن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیاں میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گانو واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی۔سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لودھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا۔غرض ہماری پورانی ریاست خاک میں مل کر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے پھر بھی بلحاظ پورانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔۔۔۔چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے اور بسا اوقات اُن کی دلجوئی کے لئے حکام وقت، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اُن کے مکان پر آ کر اُن کی ملاقات کرتے تھے۔یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے۔میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں۔