حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 158
۱۵۸ جو شخص امور معروفہ میں میری اطاعت کرنے کے لئے طیار نہیں ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔اور جو شخص مخالفوں کی جماعت میں بیٹھتا ہے اور ہاں میں ہاں ملاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ہر ایک زانی، فاسق، شرابی ، خونی، چور، قمار باز، خائن ، مرتشی ، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعلساز اور اُن کا ہم نشین اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔یہ سب زہریں ہیں تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ہر ایک جو پیچ در پیچ طبیعت رکھتا ہے اور خدا کے ساتھ صاف نہیں ہے وہ اس برکت کو ہرگز نہیں پاسکتا جو صاف دلوں کو ملتی ہے۔کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کر لیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے۔ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدا ان کا۔وہ ہر ایک بلا کے وقت بچائے جائیں گے۔احمق ہے وہ دشمن جو ان کا قصد کرے کیونکہ وہ خدا کی گود میں ہیں اور خدا ان کی حمایت میں۔کون خدا پر ایمان لایا؟ صرف وہی جو ایسے ہیں۔ایسا ہی وہ شخص بھی احمق ہے جو ایک بے باک گنہگار اور بد باطن اور شریر النفس کے فکر میں ہے کیونکہ وہ خود ہلاک ہو گا جب سے خدا نے آسمان اور زمین کو بنایا کبھی ایسا اتفاق نہ ہوا کہ اس نے نیکوں کو تباہ اور ہلاک اور نیست و نابود کر دیا ہو۔بلکہ وہ ان کے لئے بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے اور اب بھی دکھلائے گا وہ خدا نہایت وفادار خدا ہے اور وفاداروں کے لئے اس کے عجیب کام ظاہر ہوتے ہیں۔دنیا چاہتی ہے کہ اُن کو کھا جائے اور ہر ایک دشمن اُن پر دانت پیتا ہے مگر وہ جو ان کا دوست ہے ہر ایک ہلاکت کی جگہ سے اون کو بچاتا ہے اور ہر ایک میدان میں اون کو فتح بخشتا ہے۔کیا ہی نیک طالع وہ شخص ہے جو اُس خدا کا دامن نہ چھوڑے۔ہم اس پر ایمان لائے۔ہم نے اس کو شناخت کیا۔تمام دنیا کا وہی خدا ہے جس نے میرے پر وحی نازل کی۔جس نے میرے لئے زبردست نشان دکھلائے جس نے مجھے اس زمانے کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا۔اس کے سوا کوئی خدا نہیں نہ آسمان میں نہ زمین میں۔جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا وہ سعادت سے محروم اور خذلان میں گرفتار ہے۔ہم نے اپنے خدا کی آفتاب کی طرح روشن وحی پائی۔ہم نے اُسے دیکھ لیا کہ دنیا کا وہی خدا ہے۔اس کے سوا کوئی نہیں۔کیا ہی قادر اور قیوم خدا ہے جس کو ہم نے پایا۔کیا ہی زبر دست قدرتوں کا مالک ہے جس کو ہم نے دیکھا۔سچ تو یہ ہے کہ اُس کے آگے کوئی بات