حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 153

۱۵۳ کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اِس خدمت کے لئے بلاتا ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو۔اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقع دیتا ہے۔تھوڑے دن ہوئے کہ بمقام گورداسپور مجھ کو الہام ہوا تھا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّخِذْنِي وَكِيلاً۔یعنی میں ہی ہوں کہ ہر ایک کام میں کارساز ہوں۔پس تو مجھے کو ہی وکیل یعنی کارساز سمجھ لے اور دوسروں کا اپنے کاموں میں بھی دخل مت سمجھ جب یہ الہام مجھ کو ہوا تو میرے دل پر ایک لرزہ پڑا اور مجھے خیال آیا کہ میری جماعت ابھی اس لائق نہیں کہ خدا تعالیٰ ان کا نام بھی لے اور مجھے اس سے زیادہ کوئی حسرت نہیں کہ میں فوت ہو جاؤں اور جماعت کو ایسی نا تمام اور خام حالت میں چھوڑ جاؤں۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔میں تم میں بہت دیر تک نہیں رہوں گا اور وہ وقت چلا آتا ہے کہ تم پھر مجھے نہیں دیکھو گے۔اور بہتوں کو حسرت ہوگی کہ کاش ہم نے نظر کے سامنے کوئی قابل قدر کام کیا ہوتا۔سو اس وقت ان حسرات کا جلد تدارک کرو۔جس طرح پہلے نبی رسول اپنی اُمت میں نہیں رہے میں بھی نہیں رہوں گا۔سو اس وقت کا قدر کرو۔اور اگر تم اس قدر خدمت بجا لاؤ کہ اپنی غیر منقولہ جائدادوں کو اس راہ میں بیچ دو پھر بھی ادب سے دُور ہو گا کہ تم خیال کرو کہ ہم نے کوئی خدمت کی ہے۔تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت رحمت الہی اس دین کی تائید میں جوش میں ہے اور اُس کے فرشتے دلوں پر نازل ہورہے ہیں۔ہر ایک عقل اور فہم کی بات جو تمہارے دل میں ہے وہ تمہاری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔آسمان سے عجیب سلسلہ انوار جاری اور نازل ہو رہا ہے۔پس میں بار بار کہتا ہوں کہ خدمت میں جان تو ڑ کر کوشش کرو مگر دل میں مت لاؤ کہ ہم نے کچھ کیا ہے اگر تم ایسا کرو گے ہلاک ہو جاؤ گے۔یہ تمام خیالات ادب سے دور ہیں۔اور جس قدر بے ادب جلد تر ہلاک ہو جاتا ہے ایسا جلد کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔تبلیغ رسالت جلد دهم صفحه ۳ ۵ تا ۵۶ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۱۲ تا ۶۱۴ بار دوم ) واضح رہے کہ صرف زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے جب تک دل کی عزیمت سے اس پر پورا پورا عمل نہ ہو۔پس جو شخص میری تعلیم پر پورا پورا عمل کرتا ہے وہ اس میرے گھر میں داخل ہو جاتا