حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 154
۱۵۴ ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی کلام میں یہ وعدہ ہے " انى أحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ “ یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے میں اُوس کو بچاؤں گا۔اس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے خاک وخشت کے گھر میں بود و باش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔وہ دُکھ اُٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔وہ ایسا ہے کہ باوجود دُور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے وہ دُور ہے اور باوجود ایک ہونے کے اس کی تجلیات الگ الگ ہیں۔انسان کی طرف سے جب ایک نئے رنگ کی تبدیلی ظہور میں آوے تو اس کے لئے وہ ایک نیا خدا بن جاتا ہے۔اور ایک نئی تجلی کے ساتھ اس سے معاملہ کرتا ہے۔اور انسان بقدر اپنی تبدیلی کے خدا میں بھی تبدیلی دیکھتا ہے مگر یہ نہیں کہ خدا میں کچھ تغییر آ جاتا ہے بلکہ وہ ازل سے غیر متغیر اور کمال نام رکھتا ہے لیکن انسانی تغیرات کے وقت جب نیکی کی طرف انسان کے تغیر ہوتے ہیں تو خدا بھی ایک نئی تجلی سے اس پر ظاہر ہوتا ہے۔اور ہر ایک ترقی یافتہ حالت کے وقت جو انسان سے ظہور میں آتی ہے خدا تعالیٰ کی قادرانہ تجلی بھی ایک ترقی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔وہ خارق عادت قدرت اسی جگہ دکھلاتا ہے جہاں خارق عادت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔خوارق اور معجزات کی یہی جڑ ہے۔یہ خدا ہے جو ہمارے سلسلہ کی شرط ہے اس پر ایمان لاؤ اور اپنے نفس پر اور اپنے آراموں پر اور اس کے کل تعلقات پر اوس کو مقدم رکھو اور عملی طور پر بہادری کے ساتھ اس کی راہ میں صدق و وفا دکھلاؤ۔دنیا اپنے اسباب اور اپنے عزیزوں پر اس کو مقدم نہیں رکھتی مگر تم اس کو مقدم رکھو تا تم آسمان پر اُس کی جماعت لکھے جاؤ۔رحمت کے نشان دکھلا نا قدیم سے خدا کی عادت ہے مگر تم اس حالت میں اس عادت سے حصہ لے سکتے ہو کہ تم میں اور اس میں کچھ جدائی نہ رہے اور تمہاری مرضی اس کی مرضی اور تمہاری خواہشیں اُس کی خواہشیں ہو جائیں۔اور تمہارا سر ہر ایک وقت اور ہر ایک حالت مراد یابی اور نامرادی میں اُس کے آستانہ پر پڑا ر ہے تا جو چاہے سو کرے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم میں وہ خدا ظاہر ہوگا جس نے مدت سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔کیا کوئی تم میں ہے جو اس پر عمل کرے اور اس کی رضا کا طالب ہو جائے اور اس کی قضاء و قدر پر ناراض نہ ہو۔سو تم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے اور اُس کی توحید زمین پر پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو اور اس کے