حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 133
۱۳۳ ما ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے۔سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الہی نے ہمیں بخشا ہے۔اگر ہمارے تنگ ظرف مخالف بدظنی پر سرنگوں نہ ہوتے تو سلطان کی حقیقی خیر خواہی اس میں نہ تھی کہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح گالیوں پر کمر باندھتے بلکہ چاہئے تھا کہ آیت وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمُ ا ر عمل کر کے اور نیز آیت اِنَّ بَعْضَ النِ الم سے کو یاد کر کے سلطان کی خیر خواہی اس میں دیکھتے کہ اس کے لئے صدق دل سے دُعا کرتے۔میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضاء و قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور تو بہ اور اعمال صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں۔مگر سلطان کے نادان خیر خواہوں نے بجائے اس کے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں۔اور بعضوں نے کہا کہ کیا سارے گناہ سلطان پر ٹوٹ پڑے اور یورپ مقدس اور پاک ہے جس کے عذاب کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاتی مگر وہ نادان نہیں سمجھتے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ کفار کے فسق و فجور اور بت پرستی اور انسان پرستی کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہوا ہے جو مرنے کے بعد پیش آئے گا۔اور ایسی قوموں کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتیں اسی دنیا میں مورد عذاب کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے بجز اس صورت کے کہ وہ لوگ اپنے گناہ میں حد سے زیادہ تجاوز کریں اور خدا کی نظر میں سخت ظالم اور موذی اور مفسد ٹھہر جائیں۔جیسا کہ قومِ نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ مفسد قو میں متواتر بے باکیاں کر کے مستوجب سزا ہو گئی تھیں لیکن خدا تعالیٰ مسلمانوں کی بے باکی کی سزا کو دوسرے جہان پر نہیں چھوڑتا بلکہ مسلمانوں کو ادنی ادنیٰ قصور کے وقت اسی دنیا میں تنبیہ کی جاتی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے اُن بچوں کی طرح ہیں جن کی والدہ ہر دم جھڑ کیاں دے کر انہیں ادب سکھاتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت سے چاہتا ہے کہ وہ اس نا پائیدار دنیا سے پاک ہو کر جائیں یہی باتیں تھیں کہ میں نے نیک نیتی سے سفیر روم پر ظاہر کی تھیں مگر افسوس کہ بے وقوف مسلمانوں نے ان باتوں کو اور طرف کھینچ لیا۔ان نادانوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک حاذق ڈاکٹر کہ جو شخص امراض اور قواعد حفظ ما تقدم کو بخوبی جانتا ہے وہ کسی شخص کی نسبت کمال نیک نیتی سے یہ رائے ظاہر کرے کہ اس کے پیٹ میں ایک قسم کی رسولی نے بڑھنا شروع کر دیا ہے اور اگر ابھی وہ بنی اسرائیل: ۳۷ الحجرات:١٣