حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 132

۱۳۲ کیا وہ جو خدا کی طرف سے ہے لوگوں کی بد گوئی اور سخت عداوت سے ضائع ہوسکتا ہے؟ تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قومی را خدا رُسوا نکرد یہ کچھ قضا و قدر کی بات ہے کہ بداندیش لوگوں کو اپنے پوشیدہ کینوں کے ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ہاتھ آجاتا ہے۔چنانچہ آج کل ہمارے مخالفوں کو گالیاں دینے کے لئے یہ نیا بہانہ ہاتھ آ گیا ہے کہ انہوں نے ہمارے ایک اشتہار کے اُلٹے معنے کر کے یہ مشہور کر دیا ہے کہ گویا ہم سلطان روم اور اس کی سلطنت اور دولت کے سخت مخالف ہیں اور اس کا زوال چاہتے ہیں اور انگریزوں کی حد سے زیادہ خوشامد کرتے ہیں اور انگریزی سلطنت کی دولت اور اقبال کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے اکثر حصوں میں بعض پر افترا اشتہاروں اور اخباروں کے ذریعہ سے یہ خیال بہت پھیلایا گیا ہے اور عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ہمارے اشتہار کی بعض عبارتیں محرف اور مبدل کر کے لکھی گئی ہیں اور اس طرح پر بیوقوفوں کے دلوں کو جوش دلانے اور اُبھارنے کے لئے کارروائی کی گئی ہے۔اور ہم اگر چہ جعلسازوں اور دروغگوؤں کا منہ تو بند نہیں کر سکتے اور نہ اُن کی بد زبانی اور گالیوں اور ڈوموں کی طرح تمسخر اور ٹھٹھے کا مقابلہ کر سکتے ہیں تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی ظالمانہ بد زبانی کو خدا تعالیٰ کی غیرت کے حوالہ کر کے اُن کے اصل مدعا کو جو دھوکا دہی ہے نادانوں پر اثر ڈالنے سے روکا جائے۔پس اسی غرض سے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے۔ہر ایک مسلمان عظمند بھلا مانس نیک فطرت جو اپنی شرافت سے سچی بات کو قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اس بات کو متوجہ ہو کر سُنے کہ ہم کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کلمہ گو سے بھی کینہ نہیں رکھتے چہ جائیکہ ایسے شخص سے کینہ ہو جس کی ظل حمایت میں کروڑ ہا اہل قبلہ زندگی بسر کرتے ہیں اور جس کی حفاظت کے نیچے خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مکانوں کو سپرد کر رکھا ہے۔سلطان کی شخصی حالت اور اس کی ذاتیات کے متعلق نہ ہم نے کبھی کوئی بحث کی اور نہ اب ہے۔بلکہ اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ ہمیں اس موجود سلطان کے بارے میں اُس کے باپ دادے کی نسبت زیادہ حسنِ ظن ہے۔ہاں ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں جب تک کسی اللہ والے کا دل نہیں کڑھتا۔خدا کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا۔