حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 131
۱۳۱ یہ تو وہ فوائد ہیں کہ جو انشاء اللہ الکریم ان سعید لوگوں کو بفضلہ تعالی ملیں گے جنہوں نے اِس عاجز کو قبول کر لیا ہے لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے وہ اُن تمام سعادتوں سے محروم ہیں اور اُن کا یہ وہم بھی لغو ہے کہ قبول کرنے کی حالت میں نقصان دین کا اندیشہ ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ نقصان دین کس وجہ سے ہوسکتا ہے؟ نقصان تو اس صورت میں ہوتا کہ اگر یہ عاجز بر خلاف تعلیم اسلام کے کسی اور نئی تعلیم پر چلنے کے لئے انہیں مجبور کرتا مثلاً کسی حلال چیز کوحرام یا حرام کو حلال بتلاتا یا ان ایمانی عقائد میں جونجات کے لئے ضروری ہیں کچھ فرق ڈالتا یا یہ کہ صوم وصلوٰۃ و حج و زکوۃ وغیرہ اعمال شرعیہ میں کچھ بڑھاتا یا گھٹا دیتا۔مثلاً پانچ وقت کی نماز کی جگہ دس وقت کی نماز کر دیتا یا دو وقت ہی رہنے دیتا یا ایک مہینہ کی جگہ دو مہینے کے روزے فرض کر دیتا یا اس سے کم کی طرف توجہ دلاتا تو بے شک سراسر نقصان بلکہ کفر وخسران تھا لیکن جس حالت میں یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو! میں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا بلکہ میں بھی تم میں سے اور تمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجز جناب ختم المرسلین احمد عربی صلعم کے اور کوئی ہمارے لئے ہادی اور مقتد انہیں جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں تو پھر ایک متدین مسلمان کے لئے میرے اس دعوے پر ایمان لانا جس کی الہام الہی پر بنا ہے کون سی اندیشہ کی جگہ ہے۔بفرض محال اگر میرا یہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے اس کے سمجھنے میں میں نے دھو کہ کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں ہرج ہی کیا ہے۔کیا اس نے کوئی ایسی بات مان لی ہے جس کی وجہ سے اس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہوسکتا ہے۔اگر ہماری زندگی میں سچ سچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اتر آئے تو دل ما شاد و چشم ما روشن ہم اور ہمارا گر وہ سب سے پہلے ان کو قبول کر لے گا۔۔ورنہ دوسری صورت میں ایمان سلامت رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔کیونکہ اگر اخیر زندگی تک کوئی آدمی آسمان سے اتر تا انہیں دکھائی نہ دیا بلکہ اپنی ہی طیاری آسمان کی طرف جانے کے لئے ٹھہر گئی تو ظاہر ہے کہ کیا کیا شکوک و شبہات ساتھ لے جائیں گے اور نبی صادق کی پیشگوئی کے بارہ میں کیا کیا وساوس دل میں پڑیں گے اور قریب ہے کہ کوئی ایسا سخت وسوسہ پڑ جائے کہ جس کے ساتھ ایمان ہی برباد ہو کیونکہ یہ وقت انجیل اور احادیث کے اشارات کے مطابق وہی وقت ہے جس میں مسیح اترنا چاہئے۔اسی وجہ سے سلف صالح میں سے بہت سے صاحب مکاشفات مسیح کے آنے کا وقت چودھویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۸۶ تا ۱۸۹)