حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 124
۱۲۴ رطب و یابس کا ذخیرہ ہے وہ سب علامتیں مسیح موعود میں ثابت ہونی چاہئیں اور ایسے مدعی مسیحیت یا مہدویت کو ہرگز نہیں مانا چاہئے کہ ان کی تمام حدیثوں میں سے گو ایک حدیث اس پر صادق نہ آوے۔حالانکہ قدیم سے یہ امر غیر ممکن چلا آیا ہے۔یہود نے جو جو علامتیں حضرت عیسی کے لئے اپنی کتابوں میں تراش رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔پھر انہی بد بخت لوگوں نے ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو جو علامتیں تراشی تھیں اور مشہور کر رکھی تھیں وہ بھی بہت ہی کم پوری ہوئیں۔اُن کا خیال تھا کہ یہ آخری نبی بنی اسرائیل سے ہوگا مگر۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں پیدا ہوئے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو توریت میں لکھ دیتا کہ اس نبی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور باپ کا نام عبداللہ اور دادا کا نام عبدالمطلب اور مکہ میں پیدا ہو گا اور مدینہ اس کی ہجرت گاہ ہوگی۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ نہ لکھا۔کیونکہ ایسی پیشگوئیوں میں کچھ امتحان بھی منظور ہوتا ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے پہلے سے خبر دی گئی ہے کہ وہ اسلام کے مختلف فرقوں کے لئے بطور حکم کے آئے گا۔اب ظاہر ہے کہ ہر ایک فرقہ کی جداجدا حدیثیں ہیں۔پس یہ کیونکر ممکن ہو کہ سب کے خیالات کی وہ تصدیق کرے۔اگر اہلحدیث کی تصدیق کرے تو حنفی ناراض ہوں گے۔اگر حنفیوں کی تصدیق کرے تو شافعی بگڑ جائیں گے۔اور شیعہ جُدا یہ اصول ٹھہرا ئیں گے کہ اُن کے عقیدہ کے موافق وہ ظاہر ہو۔اس صورت میں وہ کیونکر سب کو خوش کر سکتا ہے۔علاوہ اس کے خود حَكَمُ کا لفظ چاہتا ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب تمام فرقے کچھ نہ کچھ حق سے دُور جا پڑیں گے۔اس صورت میں اپنی اپنی حدیثوں کے ساتھ اس کو آزمانا سخت غلطی ہے بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ جو نشان اور قرار دادہ علامتیں اس کے وقت میں ظاہر ہو جائیں اُن سے فائدہ اٹھائیں اور باقی کو موضوع اور انسانی افتراء سمجھیں۔یہی قاعدہ ان نیک بخت یہودیوں نے برتا جو مسلمان ہو گئے تھے۔کیونکہ جو جو باتیں مقرر کردہ احادیث یہود وقوع میں آگئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آگئیں ان حدیثوں کو انہوں نے صحیح سمجھا اور جو پوری نہ ہوئیں اُن کو موضوع قرار دیا۔اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر نہ حضرت عیسی کی نبوت یہودیوں کے نزدیک ثابت ہو سکتی نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت۔جولوگ مسلمان ہوئے تھے انہیں یہود کی صد ہا جھوٹی حدیثوں کو چھوڑنا پڑا۔جب انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف بعض علامات قرار داده پوری ہوگئیں اور ایک طرف تائیدات الہیہ کا خدا کے رسول میں ایک دریا جاری ہے تو انہوں نے اُن حدیثوں سے فائدہ اٹھایا جو پوری ہو گئیں۔اگر ایسا نہ کرتے تو ایک شخص بھی اُن میں سے مسلمان نہ ہو سکتا۔اب رہا میرا دعویٰ سو میرے دعوی کے ساتھ اس قدر دلائل ہیں کہ کوئی انسان را بے حیا نہ ہو تو اس کے لئے