حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 122
۱۲۲ خدا تعالیٰ نے رہائی بخشی اور اس پیشگوئی کے موافق جو میں خدا سے وحی یقینی پا کر صد ہا لوگوں میں شائع کر چکا تھا مجھ کو بری فرمایا۔ اُس دن میرے ساتھ ایک عیسائی چور بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ چور عیسائیوں کی مقدس جماعت مکتی فوج میں سے تھا جس نے کچھ روپیہ چُرا لیا تھا۔ اس چور کو صرف تین مہینے کی سزاملی ۔ پہلے مسیح کے رفیق چور کی طرح سزائے موت اس کو نہیں ہوئی۔ تیرھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ پیلاطوس گورنر کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت کی درخواست کی گئی تو پیلاطوس نے کہا کہ میں اس کا کوئی گناہ نہیں پاتا جس سے یہ سزا دوں ۔ ایسا ہی پاتا جس یہ ۔ کپتان ڈگلس صاحب ضلع مجسٹریٹ نے میرے ایک سوال کے جواب میں مجھ کو کہا کہ میں آپ پر کوئی الزام نہیں لگاتا۔ میرے خیال میں ہے کہ کپتان ڈگلس اپنی استقامت اور عادلانہ شجاعت میں پیلاطوس سے بہت بڑھ کر تھا۔ کیونکہ پیلاطوس نے آخر کار بزدلی دکھائی اور یہودیوں کے شریر مولویوں سے ڈر گیا مگر ڈگلس ہرگز نہ ڈرا ۔۔۔ یہ نیک اخلاق اس ہمارے وقت کے پیلاطوس کے ہمیشہ ہمیں اور ہماری جماعت کو یادر ہیں گے اور دنیا کے اخیر تک اس کا نام عزت سے لیا جائے گا۔ چودھویں خصویت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا مگر بایں ہمہ موسوی سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی میں بھی خاندان قریش میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں ۔ پندرھویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ اُن کے عہد میں دنیا کی وضع جدید ہو گئی تھی ۔ سڑکیں ایجاد ہو گئی تھیں۔ ڈاک کا عمدہ انتظام ہو گیا تھا۔ فوجی انتظام میں بہت صلاحیت پیدا ہو گئی تھی اور مسافروں کے آرام کے لئے بہت کچھ باتیں ایجاد ہو گئی تھیں اور پہلے کی نسبت قانون معدلت نہایت صاف ہو گیا تھا۔ ایسا ہی میرے وقت میں دنیا کے آرام کے اسباب بہت ترقی کر گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ریل کی سواری پیدا ہوگئی جس کی خبر قرآن شریف میں پائی جاتی ہے۔ باقی امور کو پڑھنے والا خود سمجھ لے۔ سولہویں خصوصیت حضرت مسیح میں یہ تھی کہ بن باپ ہونے کی وجہ سے حصہ حضرت آدم سے وہ مشابہ تھے۔ ایسا ہی میں بھی تو ام پیدا ہونے کی وجہ سے حضرت آدم سے مشابہ ہوں اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء صینی الاصل ہو گا یعنی مغلوں میں سے اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہو گا۔ پہلے لڑکی نکلے گی بعد اس کے وہ پیدا ہوگا ۔ ایک ہی وقت میں اسی طرح میری پیدائش ہوئی