حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 121
۱۲۱ بہتر ہے جو مسیح کے وقت میں تھا۔ساتویں خصوصیت یہ کہ مذہب عیسائی آخر قیصری قوم میں گھس گیا۔سو اس خصوصیت میں بھی آخری مسیح کا اشتراک ہے۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یورپ اور امریکہ میں میرے دعوئی اور دلائل کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جاتا ہے اور ان لوگوں نے خود بخود صد ہا اخبار میں میرے دعوئی اور دلائل کو شائع کیا ہے اور میری تائید اور تصدیق میں ایسے الفاظ لکھتے ہیں کہ ایک عیسائی کے قلم سے ایسے الفاظ کا نکلنا مشکل ہے یہاں تک کہ بعض نے صاف لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے۔آٹھویں خصوصیت مسیح میں یہ تھی کہ اس کے وقت میں ایک ستارہ نکلا تھا۔اس خصوصیت میں بھی میں آخری مسیح بننے میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ وہی ستارہ جو مسیح کے وقت میں نکلا تھا وہ دوبارہ میرے وقت میں نکلا ہے۔اس بات کی انگریزی اخباروں نے بھی تصدیق کی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مسیح کے ظہور کا وقت نزدیک ہے۔نویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب اس کو صلیب پر چڑھایا گیا تو سورج کو گرہن لگا تھا۔سو اس واقعہ میں بھی خدا نے مجھے شریک کیا ہے کیونکہ جب میری تکذیب کی گئی تو اس کے بعد نہ صرف ا سورج بلکہ چاند کو بھی ایک ہی مہینہ میں جو رمضان کا مہینہ تھا گرہن لگا تھا اور نہ ایک دفعہ بلکہ حدیث کے مطابق دو دفعہ یہ واقعہ ہوا اور ان دونوں گرہنوں کی انجیلوں میں بھی خبر دی گئی ہے اور قرآن شریف میں بھی یہ خبر ہے اور حد یثوں میں بھی جیسا کہ دارقطنی میں۔دسویں خصوصیت یہ ہے کہ یسوع مسیح کو دُکھ دینے کے بعد یہودیوں میں سخت طاعون پھیلی تھی سو میرے وقت میں بھی سخت طاعون پھیل گئی۔گیارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ یہودیوں کے علماء نے کوشش کی کہ وہ باغی قرار پاوے اور اُس پر مقدمہ بنایا گیا اور زور لگایا گیا کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔سو اس قسم کے مقدمہ میں بھی قضاء وقد رالہی نے مجھے شریک کر دیا کہ ایک خون کا مقدمہ مجھ پر بنایا گیا۔اور اسی کے ضمن میں مجھے باغی بنانے کی کوشش کی گئی۔یہ وہی مقدمہ ہے جس میں فریق ثانی کی طرف سے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی گواہ بن کر آئے تھے۔بارھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ جب وہ صلیب پر چڑھایا گیا تو اس کے ساتھ ایک چور بھی صلیب پر لٹکایا گیا۔سو اس واقعہ میں بھی میں شریک کیا گیا ہوں کیونکہ جس دن مجھ کو خون کے مقدمہ سے