حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 120
۱۲۰ ٹھیک ہو اور ہمیشہ مشابہت اول اور آخر میں دیکھی جاتی ہے اور درمیانی زمانہ جو ایک طویل مدت ہوتی ہے گنجائش نہیں رکھتا کہ پوری پوری نظر سے اس کو جانچا جائے۔مگر اوّل اور آخر کی مشابہت سے یہ قیاس پیدا ہو جاتا ہے کہ درمیان میں بھی ضرور مشابہت ہو گی گو نظر عقلی اس کی پوری پڑتال سے قاصر رہے اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں مذہبی پہلو کے رو سے سولہ خصوصیتیں تھیں جن کا اسلام کے آخری خلیفہ میں پایا جانا ضروری ہے تا اس میں اور حضرت عیسی میں مشابہت تامہ ثابت ہو۔پس اوّل موعود ہونے کی خصوصیت ہے۔اسلام میں اگر چہ ہزار ہاولی اور اہل اللہ گذرے ہیں مگر اُن میں کوئی موعود نہ تھا لیکن وہ جو مسیح کے نام پر آنے والا تھا وہ موعود تھا۔ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے پہلے کوئی نبی موعود نہ تھا صرف مسیح موعود تھا۔دوم خصوصیت سلطنت کے برباد ہو چکنے کی ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی بن مریم سے کچھ دن پہلے اس ملک سے اسرائیلی سلطنت جاتی رہی تھی۔ایسا ہی آخری مسیح کی پیدائش سے پہلے اسلامی سلطنت بباعث طرح طرح کی بد چلنیوں کے ملک ہندوستان سے اُٹھ گئی تھی اور انگریزی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی تھی۔سوم خصوصیت جو پہلے میچ میں پائی گئی وہ یہ ہے کہ اُس کے وقت میں یہو دلوگ بہت سے فرقوں پر منقسم ہو گئے تھے اور بالطبع ایک حکم کے محتاج تھے تا ان میں فیصلہ کرے۔ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں مسلمانوں میں کثرت سے فرقے پھیل گئے تھے۔چهارم خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ وہ جہاد کے لئے مامور نہ تھا۔ایسا ہی آخری مسیح جہاد کے لئے مامور نہیں ہے اور کیونکر مامور ہو زمانہ کی رفتار نے قوم کو متنبہ کر دیا ہے کہ تلوار سے کوئی دل تسلی نہیں پا سکتا اور اب مذہبی امور کے لئے کوئی مہذب تلوار نہیں اٹھاتا۔پنجم خصوصیت جو پہلے مسیح میں تھی وہ یہ ہے کہ اُس کے زمانہ میں یہودیوں کا چال چلن بگڑ گیا تھا بالخصوص اکثر اُن کے جو علماء کہلاتے تھے وہ سخت مگار اور دنیا پرست اور دنیا کے لالچوں میں اور دنیوی عزتوں کی خواہش میں غرق ہو گئے تھے۔ایسا ہی آخری مسیح کے وقت میں عام لوگوں اور اکثر علمائے اسلام کی حالت ہو رہی ہے مفصل لکھنے کی کچھ حاجت نہیں۔چھٹی خصوصیت یعنی یہ کہ حضرت مسیح قیصر روم کے ماتحت مبعوث ہوئے تھے۔سواس خصوصیت میں آخری مسیح کا بھی اشتراک ہے کیونکہ میں بھی قیصر کی عملداری کے تحت مبعوث ہوا ہوں۔یہ قیصر اس قیصر سے