حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 115

۱۱۵ بد اخلاق اور بد عادات علمائے اسلام میں پیدا ہو جائیں گی اور گو بظاہر مسلمان کہلائیں گے مگر اُن کے دل مسخ ہو کر ان یہودیوں کے رنگ سے رنگین ہو جائیں گے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو دُکھ دے کر مور دغضب الہی ہوئے تھے۔پس جبکہ یہودی یہی لوگ بنیں گے جو مسلمان کہلاتے ہیں تو کیا یہ اس امت مرحومہ کی بے عزتی نہیں کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ مقرر کئے جائیں مگر مسیح جو ان یہودیوں کو درست کرے گا وہ باہر سے آوے۔۔۔جو شخص قرآن شریف کو ایک تقوی اور ایمان اور انصاف اور تدبیر کی نظر سے دیکھے گا اُس پر روز روشن کی طرح کھل جائے گا کہ خداوند قادر کریم نے اس امت محمدیہ کو موسوی امت کے بالکل بالمقابل پر پیدا کیا ہے۔ان کی اچھی باتوں کے بالمقابل پر اچھی باتیں دی ہیں اور ان کی بُری باتوں کے مقابل پر بُری باتیں۔اس امت میں بعض ایسے ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو مغضوب علیہم یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گھر ہے جس میں عمدہ عمدہ آراستہ کمرے موجود ہیں جو عالیشان اور مہذب لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہیں اور جس کے بعض حصے میں پائخانے بھی ہیں اور بدر رو بھی اور گھر کے مالک نے چاہا کہ اس محل کے مقابل پر ایک اور محل بناوے کہ تا جو جو سامان اس پہلے محل میں تھا اس میں بھی موجود ہو۔سو یہ دوسر احل اسلام کا محل ہے اور پہلا محل موسوی سلسلہ کا محل تھا۔یہ دوسرا محل پہلے محل کا کسی بات میں محتاج نہیں۔قرآن شریف توریت کا محتاج نہیں اور یہ امت کسی اسرائیلی نبی کی محتاج نہیں۔ہر ایک کامل جو اس اُمت کے لئے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پرورش یافتہ ہے اور اس کی وحی محمدی وحی کی ظل ہے۔یہی ایک نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔افسوس ہمارے مخالف حضرت عیسی کو دوبارہ لاتے ہیں، نہیں سمجھتے کہ مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کو فخر مشابہت حاصل ہو۔نہ یہ ذلت کہ کوئی اسرائیلی نبی آوے تا اُمت اصلاح پاوے۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳ تا ۱۷) تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ آیا یہ امر ثابت ہے یا نہیں کہ آنے والا مسیح موعود اسی زمانہ میں آنا چاہئے جس میں ہم ہیں۔سو دلائلِ مفصلہ ذیل سے صاف طور پر کھل گیا ہے کہ ضرور ہے کہ وہ اسی زمانہ میں آوے۔(۱) اول دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری میں جو اَصَحُ الكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللهِ کہلاتی ہے لکھا ہے کہ مسیح موعود کسر صلیب کے لئے آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ جب ملک میں ہر ایک پہلو سے بے اعتدالیاں قول اور فعل میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔سو اب اس نتیجہ تک پہنچنے کے لئے غور سے دیکھنے