حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 113
۱۱۳ دونوں آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ خدا تمہیں خلافت اور حکومت عطا کر کے پھر دیکھے گا کہ تم راستبازی پر قائم رہتے ہو یا نہیں۔ان آیتوں میں جو الفاظ یہود کے لئے استعمال کئے ہیں وہی مسلمانوں کے لئے یعنی ایک ہی آیت کے نیچے ان دونوں کو رکھا ہے۔پس ان آیتوں سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کون سا ثبوت ہوسکتا ہے کہ خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دے دیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء ان کے۔اس امت کے علماء بھی انہی بدیوں کے مرتکب ہوں گے اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم لے میں بھی اشارہ ہے کیونکہ اس آیت میں باتفاق کل مفسرین مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسی علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا۔اور احادیث صحیحہ میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جو مور د غضب الہی دنیا میں ہی ہوئے تھے اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مَغْضُوبِ عَلَيْهِم ٹھیرانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔پس یقینی اور قطعی طور پر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی پر ہلاک کرنا چاہا تھا۔اب خدا تعالیٰ کا یہ دُعا سکھلانا کہ خدایا ایسا کر کہ ہم وہی یہودی نہ بن جائیں جنہوں نے عیسی کو قتل کرنا چاہا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ امت محمدیہ میں بھی ایک عیسی پیدا ہونے والا ہے ور نہ اس دُعا کی کیا ضرورت تھی؟ اور نیز جبکہ آیات مذکورہ بالا سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی زمانہ میں بعض علماء مسلمان بالکل علماء یہود سے مشابہ ہو جائیں گے اور یہود بن جائیں گے پھر یہ کہنا کہ ان یہودیوں کی اصلاح کے لئے اسرائیلی عیسی آسمان سے نازل ہوگا بالکل غیر معقول بات ہے۔کیونکہ اول تو باہر سے ایک نبی کے آنے سے مُہر ختم نبوت ٹوٹتی ہے اور قرآن شریف صریح طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھیراتا ہے۔ماسوا اس کے قرآن شریف کے رُو سے یہ امت خیر الام کہلاتی ہے۔پس اس کی اس سے زیادہ بے عزتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہودی بننے کے لئے تو یہ امت ہو مگر عیسی باہر سے آوے۔اگر یہ سچ ہے کہ کسی زمانہ میں اکثر علماء اس امت کے یہودی بن جائیں گے یعنی یہود خصلت ہو جائیں گے تو پھر یہ بھی سچ ہے کہ ان یہود کے درست کرنے کے لئے عیسی باہر سے نہیں آئے گا بلکہ جیسا کہ بعض افراد کا نام یہود رکھا گیا ہے ایسا ہی اس کے مقابل پر ایک فرد کا نام عیسی بھی رکھا جائے گا۔اس بات کا انکار نہیں ہوسکتا کہ قرآن اور حدیث دونوں نے بعض افراد اس امت کا نام یہود رکھا ہے جیسا کہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے بھی ظاہر ہے کیونکہ اگر بعض افراد اس امت کے یہودی بننے الفاتحة :