حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 110

11 + دی تھی وہ میں ہی ہوں اور مکالمات الہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک وشبہ کی جگہ نہ رہی۔ہر ایک وحی جو ہوتی تھی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روز روشن کی طرح پوری ہوتی تھیں اور ان کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کے لئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہ لاشریک کا کلام ہے جس کا کلام قرآن شریف ہے۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۳) ہم نے حضرت مسیح کی موت اور ان کے رفع روحانی کو ثابت کر دیا ہے۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الملل اب موت مسیح کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ مسیح موعود کا اسی امت میں سے آنا کن نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ اور دیگر قرائن سے ثابت ہے سو وہ دلائل ذیل میں بیان کئے جاتے ہیں۔غور سے سُنو شائد خدائے رحیم ہدایت کرے۔منجملہ ان دلائل کے جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں جو آنے والا مسیح جس کا اس اُمت کے لئے وعدہ دیا گیا ہے وہ اس امت میں سے ایک شخص ہو گا بخاری اور مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں اِمَامُكُمُ مِنْكُمْ اور اَمَّكُم مِنكُمْ لکھا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم ہی میں سے ہو گا چونکہ یہ حدیث آنے والے عیسی کی نسبت ہے اور اس کی تعریف میں اس حدیث میں حکم اور عدل کا لفظ بطور صفت موجود ہے جو اس فقرہ سے پہلے ہے اس لئے امام کا لفظ بھی اس کے حق میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس جگہ مِنكُمُ کے لفظ سے صحابہ کو خطاب کیا گیا ہے اور وہی مخاطب تھے لیکن ظاہر ہے کہ ان میں سے تو کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے منکم کے لفظ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں قائم مقام صحابہ ہے اور وہ وہی ہے جس کو اس آیت مفصلہ ذیل میں قائم مقام صحابہ کیا گیا ہے یعنی یہ کہ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یے کیونکہ اس آیت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ رسول کی روحانیت سے تربیت یافتہ ہے۔اور اسی معنے کے رو سے صحابہ میں داخل ہے اور اس آیت کی تشریح میں یہ حدیث ہے۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مَعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ اور چونکہ اس فارسی شخص کی طرف وہ صفت منسوب کی گئی ہے جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی ا یونس : ۳۳ الجمعة : ۴