حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 106
کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔پھر بعد اس کے اُس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام کو مُہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کرے بلکہ اس کے الہام اور مکالمے اور مخاطبے کے ہمیشہ دروازے کھلے ہیں۔ہاں اُن کو اُن کی راہوں سے ڈھونڈو تب وہ آسانی سے تمہیں ملیں گے۔وہ زندگی کا پانی آسمان سے آیا اور مناسب مقام پر ٹھہرا۔اب تمہیں کیا کرنا چاہئے تا تم اس پانی کو پی سکو۔یہی کرنا چاہئے کہ افتاں و خیزاں اُس چشمہ تک پہنچو۔پھر اپنا منہ اس چشمہ کے آگے رکھ دوتا اس زندگی کے پانی سے سیراب ہو جاؤ۔انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتا ملے۔اُسی طرف دوڑے اور جہاں اُس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو اُسی راہ کو اختیار کرے۔دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اُترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اُترتا ہے۔انسان کی اپنی ہی باتیں اور اپنی ہی انکلیں سچا گیان اس کو نہیں بخش سکتیں کیا تم خدا کو بغیر خدا کی تجلی کے پاسکتے ہو کیا تم بغیر اس آسمانی روشنی کے اندھیرے میں دیکھ سکتے ہو؟ اگر دیکھ سکتے ہو تو شائد اس جگہ بھی دیکھ لو۔مگر ہماری آنکھیں گو بینا ہوں تا ہم آسمانی روشنی کی محتاج ہیں۔اور ہمارے کان گوشنوا ہوں تا ہم اس ہوا کے حاجت مند ہیں جو خدا کی طرف سے چلتی ہے۔وہ خدا سچا خدا نہیں ہے جو خاموش ہے اور سارا مدار ہماری انکلوں پر ہے بلکہ کامل اور زندہ خدا وہ ہے جو اپنے وجود کا آپ پتا دیتا رہا ہے اور اب بھی اُس نے یہی چاہا ہے کہ آپ اپنے وجود کا پتا دیوے۔آسمانی کھڑکیاں کھلنے کو ہیں۔عنقریب صبح صادق ہونے والی ہے۔مبارک وہ جو اُٹھ بیٹھیں اور اب بچے خدا کو ڈھونڈیں۔وہی خدا جس پر کوئی گردش اور مصیبت نہیں آتی جس کے جلال کی چمک پر کبھی حادثہ نہیں پڑتا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔اُسی سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔سچا زندہ خدا وہی ہے۔مبارک وہ جو اس کو قبول کرے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۴۳ ۴۴۴) اے امیر و اور بادشا ہو! اور دولتمند و! آپ لوگوں میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اُس کی تمام راہوں میں راستباز ہیں۔اکثر ایسے ہیں کہ دنیا کے ملک اور دنیا کے املاک سے دل لگائے النور : ٣٦