حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 105

۱۰۵ ہے۔اور یہ سچ ہے کہ میں خدا کا فضل اپنے پر مسیح سے کم نہیں دیکھتا مگر یہ کفر نہیں۔یہ خدا کی نعمت کا شکر ہے۔تم خدا کے اسرار کو نہیں جانتے اس لئے کفر سمجھتے ہو۔اُس کو کیا کہو گے جو کہہ گیا هُوَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضِ الْأَنْبِيَاء اگر میں تمہاری نظر میں کافر ہوں تو بس ایسا ہی کا فرجیسا کہ ابن مریم یہودی فقیہوں کی نظر میں کافر تھا۔میرے پاس خدا کے فضل کی اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہیں۔مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔خوب یا درکھو کہ مجھ کو کافر کہنا آسان نہیں۔تم نے ایک بھاری بوجھ سر پر اٹھایا ہے۔اور تم سے ان سب باتوں کا جواب پوچھا جائے گا۔!! اے بدقسمت لوگو! تم کہاں گرے۔کون سی چھپی ہوئی بد اعمالیاں تھیں جو تمہیں پیش آ گئیں۔اگر تم میں ایک ذرہ بھی نیکی ہوتی تو خدا تمہیں ضائع نہ کرتا۔ابھی کچھ تھوڑا وقت ہے اور بہت سا ثواب کھو چکے ہو باز آ جاؤ۔کیا خدا سے اس بیوقوف کی طرح لڑائی کرو گے جو زور آور کے آگے سے نہیں ہٹ جاتا یہاں تک کہ مار سے پیسا جاتا اور کچلا جاتا ہے اور آخر ہڈیاں چور ہو کر اور مُردہ سا بن کر زمین پر گر پڑتا ہے۔یہودیوں نے لڑائی سے کیا لیا اور تم کیا لو گے؟ هَذَا وَ بَعْدَ الْمَوْتِ نَحْنُ نُخَاصِمُ۔بہت کچھ صوفیوں نے بھی انسانی کمالات کا اقرار کیا تھا کہ کہاں تک انسان پہونچتا ہے۔آج وہ بھی سو گئے اے عقلمند و! میرے کاموں سے مجھے پہچانو۔اگر مجھ سے وہ کام اور وہ نشان ظاہر نہیں ہوتے جو خدا کے تائید یافتہ سے ظاہر ہونے چاہئیں تو تم مجھے مت قبول کرو۔لیکن اگر ظاہر ہوتے ہیں تو اپنے تئیں دانستہ ہلاکت کے گڑھے میں مت ڈالو۔بدظنیاں چھوڑو۔بدگمانیوں سے باز آ جاؤ کہ ایک پاک کی توہین کی وجہ سے آسمان سُرخ ہو رہا ہے اور تم نہیں دیکھتے۔اور فرشتوں کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے اور تمہیں نظر نہیں آتا۔خدا اپنے جلال میں ہے اور در و دیوار لرزہ میں۔کہاں ہے وہ عقل جو سمجھ سکتی ہے۔کہاں ہیں وہ آنکھیں جو وقتوں کو پہچانتی ہیں۔آسمان پر ایک حکم لکھا گیا۔کیا تم اس سے ناراض ہو؟ کیا تم رب العزت سے پوچھو گے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اے نادان انسان! باز آجا کہ صاعقہ کے سامنے کھڑا ہونا تیرے لئے اچھا نہیں!!! (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۷،۶ ) اے عزیز و ! اے پیارو! کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اُس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔یقینا سمجھ لو کہ ے وہ بعض انبیاء سے بھی افضل ہوگا۔امر واقعہ ایسے ہی ہے اور موت کے بعد ہم جھگڑیں گے۔