حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 104

۱۰۴ اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں اُن میں کوئی میری برابری کر سکے تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔اب کہاں ہیں وہ پادری صاحبان جو کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضرت سید نا وسیّد الوریٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی یا اور کوئی امر خارق عادت ظہور میں نہیں آیا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ زمین پر وہ ایک ہی انسان کامل گزرا ہے جس کی پیشگوئیاں اور دعائیں قبول ہونا اور دوسرے خوارق ظہور میں آنا ایک ایسا امر ہے جو اب تک امت کے نیچے پیروؤں کے ذریعہ سے دریا کی طرح موجیں مار رہا ہے بجز اسلام وہ مذہب کہاں اور کدھر ہے جو یہ خصلت اور طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔اور وہ لوگ کہاں اور کس ملک میں رہتے ہیں جو اسلامی برکات اور نشانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔اگر انسان صرف ایسے مذہب کا پیر و ہو جس میں آسمانی روح کی کوئی ملاوٹ نہیں تو وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔مذہب وہی مذہب ہے جو زندہ مذہب ہوا اور زندگی کی روح اپنے اندر رکھتا ہو اور زندہ خدا سے ملا تا ہو اور میں صرف یہی دعویٰ نہیں کرتا کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی سے غیب کی باتیں میرے پر کھلتی ہیں اور خارق عادت امر ظاہر ہوتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتا ہوں کہ جو شخص دل کو پاک کر کے اور خدا اور اس کے رسول پر سچی محبت رکھ کر میری پیروی کرے گا وہ بھی خدا تعالیٰ سے یہ نعمت پائے گا۔مگر یا د رکھو کہ تمام مخالفوں کے لئے یہ دروازہ بند ہے اور اگر دروازہ بند نہیں ہے تو کوئی آسمانی نشانوں میں مجھ سے مقابلہ کرے اور یاد رکھیں کہ ہرگز نہیں کر سکیں گے۔پس یہ اسلامی حقیقت اور میری حقانیت کی ایک زندہ دلیل ہے۔والسلام على من اتبع الهدی ۲۳ جولائی ۱۹۰۰ء المشتهر مرزا غلام احمد مسیح موعود از قادیاں اربعین نمبر ا۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۳۴۳ تا ۳۴۶) تو بہ کرو اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔اگر دل سخت نہیں ہو گئے تو اس قدر کیوں دلیری ہے کہ خواہ نخواہ ایسے شخص کو کافر بنایا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنوں کی رُو سے خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہے۔تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اہلِ قبلہ ہے اور شریعت کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے۔اے مفتری لوگو ! میں نے کسی نبی کی تو ہین نہیں کی۔میں نے کسی عقیدہ صحیحہ کے برخلاف نہیں کہا پر اگر تم خود نہ سمجھو تو میں کیا کروں۔تم تو قائل ہو کہ جزئی فضیلت ایک ادنیٰ شہید کو ایک بڑے نبی پر ہو سکتی