حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 103

۱۰۳ قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ میں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھو کے مریں اور میں عیش کروں۔یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہو گا۔میرا دل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہے۔ان کی تاریکی اور تنگ گزرانی پر میری جان گھٹتی جاتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے ان کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ اُن کے دامنِ استعداد پر ہو جائیں۔ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے نوع سے محبت کرتی ہے یہاں تک کہ چیونٹیاں بھی اگر کوئی خود غرضی حائل نہ ہو۔پس جو شخص کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے اس کا فرض ہے کہ سب سے زیادہ محبت کرے سو میں نوع انسان سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ہاں اُن کی بدعملیوں اور ہر ایک قسم کے ظلم اور فسق اور بغاوت کا دشمن ہوں کسی کی ذات کا دشمن نہیں۔اس لئے وہ خزانہ جو مجھے ملا ہے جو بہشت کے تمام خزانوں اور نعمتوں کی کنجی ہے وہ جوش محبت سے نوع انسان کے سامنے پیش کرتا ہوں اور یہ امر کہ وہ مال جو مجھے ملا ہے وہ حقیقت میں از قسم ہیرا اور سونا اور چاندی ہے۔کوئی کھوٹی چیزیں نہیں ہیں بڑی آسانی سے دریافت ہوسکتا ہے۔اور وہ یہ کہ ان تمام دراہم اور دینار اور جواہرات پر سلطانی سکہ کا نشان ہے۔یعنی وہ آسمانی گواہیاں میرے پاس ہیں جو کسی دوسرے کے پاس نہیں ہیں۔مجھے بتلایا گیا ہے کہ تمام دینوں میں سے دین اسلام ہی سچا ہے۔مجھے فرمایا گیا ہے کہ تمام ہدایتوں میں سے صرف قرآنی ہدایت ہی صحت کے کامل درجہ پر اور انسانی ملاوٹوں سے پاک ہے۔مجھے سمجھایا گیا ہے کہ تمام رسولوں میں سے کامل تعلیم دینے والا اور اعلیٰ درجہ کی پاک اور پُر حکمت تعلیم دینے والا اور انسانی کمالات کا اپنی زندگی کے ذریعہ سے اعلی نمونہ دکھلانے والا صرف حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور مجھے خدا کی پاک اور مطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی طرف سے مسیح موعود اور مہدی معہود اور اندرونی اور بیرونی اختلافات کا حکم ہوں۔یہ جو میرا نام مسیح اور مہدی رکھا گیا ان دونوں ناموں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے مشرف فرمایا۔اور پھر خدا نے اپنے بلا واسطہ مکالمہ سے یہی میرا نام رکھا۔اور پھر زمانہ کی حالت موجودہ نے تقاضا کیا کہ یہی میرا نام ہو۔غرض میرے ان ناموں پر یہ تین گواہ ہیں۔میرا خدا جو آسمان اور زمین کا مالک ہے۔میں اس کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں اس کی طرف سے ہوں اور وہ اپنے نشانوں سے میری گواہی دیتا ہے۔اگر آسمانی نشانوں میں کوئی میرا مقابلہ کر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر دعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اُتر سکے تو میں جھوٹا ہوں اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔اگر غیب کی پوشیدہ باتیں