حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 95

۹۵ مکروں نے عام طور پر دلوں پر سخت اثر ڈالا ہے اور ان کی طبیعی اور فلسفہ نے ایسی شوخی اور بے باکی کا تخم پھیلا دیا ہے کہ گویا ہر ایک شخص اس کے فلسفہ دانوں میں سے انا الرب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔پس جا گو اور اٹھو اور دیکھو کہ یہ کیسا وقت آ گیا اور سوچو یہ موجودہ خیالات توحید محض کے کس قدر مخالف ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا خیال بھی ایک بڑی نادانی کا طریق سمجھا جاتا ہے۔اور تقدیر کے لفظ کو مُنہ پر لانے والا بڑا بیوقوف کہلاتا ہے۔اور فلسفی دماغ کے آدمی دہریت کو پھیلاتے جاتے ہیں۔اور اس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ تمام گل الوہیت کی کسی طرح ہمارے ہاتھ میں ہی آ جاوے۔ہم ہی جب چاہیں وباؤں کو دُور کر دیں۔موتوں کو ٹال دیں اور جب چاہیں بارش برسا دیں۔کھیتی اُگا لیں۔اور کوئی چیز ہمارے قبضہ قدرت سے باہر نہ ہو۔سوچو کہ اس زمانہ میں ان بے راہیوں کا کچھ انتہا بھی ہے۔ان آفتوں نے اسلام کے دونوں بازؤں پر تبر رکھ دیا ہے۔اےسونے والو بیدار ہو جاؤ۔اے غافلو اُٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آ گیا۔یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھٹھے اور جنسی اور تکفیر بازی کا۔دُعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اس نور کو بھی جو رحمتِ الہیہ نے اس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔پچھلی راتوں کو اُٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو اور ناحق حقانی سلسلہ کے مٹانے کے لئے بد دعا ئیں مت کرو اور نہ منصوبے سوچو۔خدا تعالیٰ تمہاری غفلت اور بُھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بیوقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا۔اور اپنے بندہ کا مددگار ہو گا۔اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔پھر وہ جو دانا و بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودہ کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے۔جبکہ تم انسان ہو کر ایسا کام کرنا نہیں چاہتے۔پھر وہ جو عالم الغیب ہے جو ہر ایک دل کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیوں ایسا کام کرے گا۔پس تم خوب یاد رکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلواریں مار رہے ہو سو تم ناحق آگ میں ہاتھ مت ڈالو ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑ کے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے۔یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہو جاتے اور نیز یہ اس اپنی عمر تک بھی ہرگز نہ پہنچتا جو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گزرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افترا کر کے کہ وہ مجھ سے ہمکلام ہے پھر اس مدت مدید کے