حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 94
۹۴ ہومگر اس روحانی قانونِ فطرت سے جو اسی کا ہمشکل ہے بکلی بے خبر ہو۔اے نفسانی مولویو! اور خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا گھلنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ ہمیشہ بند ہی رہیں اور تم پیر مغاں بنے رہو۔اپنے دلوں پر نظر ڈالو اور اپنے اندر کو ٹولو کیا تمہاری زندگی دنیا پرستی سے منزہ ہے؟ کیا تمہارے دلوں پر وہ زنگار نہیں جس کی وجہ سے تم ایک تاریکی میں پڑے ہو؟ کیا تم ان فقیہوں اور فریسیوں سے کچھ کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھے پھر کیا یہ سچ نہیں کہ تم مثیل مسیح کے لئے مسیحی مشابہت کا ایک گونہ سامان اپنے ہاتھ سے ہی پیش کر رہے ہو تا خدائے تعالیٰ کی حجت ہر ایک طور سے تم پر وارد ہو۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مومن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے۔بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور اس خوانِ نعمت سے حصہ لیں گے لیکن تم اسی زنگ کی حالت میں ہی مرو گے۔کاش تم نے کچھ سوچا ہوتا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۳ تا ۱۰۵) کیا ابھی اس آخری مصیبت کا وہ وقت نہیں آیا جو اسلام کے لئے دنیا کے آخری دنوں میں مقد ر تھا؟ کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی اور زمانہ بھی آنے والا ہے جو قرآن کریم اور حدیث کی رو سے اِن موجودہ فتنوں سے کچھ زیادہ فتنے رکھتا ہو گا؟ سو بھائیو! تم اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور خوب سوچ لو کہ وقت آ گیا اور بیرونی اور اندرونی فتنے انتہا کو پہنچ گئے۔اگر تم ان تمام فتنوں کو ایک پلہ میزان میں رکھو اور دوسرے پلّہ کے لئے تمام حدیثوں اور سارے قرآن کریم میں تلاش کرو تو ان کے برابر کیا ان کا ہزارم حصہ بھی وہ فتنے قرآن اور حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہوں گے۔پس وہ کون سا فساد کا زمانہ اور کس بڑے دجال کا وقت ہے جو اس زمانہ کے بعد آئے گا اور فتنہ اندازی کے رُو سے اس سے بدتر ہو گا۔کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ ان فتنوں سے بڑھ کر قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں ایسے اور فتنوں کا پتہ ملتا ہے جن کا اب نام و نشان نہیں یقیناً یا د رکھو کہ اگر تم ان فتنوں کی نظیر تلاش کرنے کے لئے کوشش کرو یہاں تک کہ اسی کوشش میں مر بھی جاؤ تب بھی قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ہرگز ثابت نہیں ہو گا کہ کبھی کسی زمانہ میں ان موجودہ فتنوں سے بڑھ کر کوئی اور فتنے بھی آنے والے ہیں۔صاحبو! یہاں وہ دجالیتیں پھیل رہی ہیں جو تمہارے فرضی دجال کے باپ کو بھی یاد نہیں ہوں گی۔یہ کارروائیاں خلق اللہ کے اغوا کے لئے ہزار ہا پہلو سے جاری کی گئی ہیں جن کے لکھنے کے لئے بھی ایک دفتر چاہئے اور ان میں مخالفین کو کامیابی بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی ہوئی ہے کہ دلوں کو ہلا دیا ہے اور ان کے