حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 90
۹۰ کو دُور کرتا اور ہوا و ہوس کی آگ کو بجھاتا اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور سچے عشق اور سچی اطاعت کی طرف کھینچتا ہے اگر تم اپنی کانشنس سے سوال کرو تو یہی جواب پاؤ گے کہ وہ بچی تسلی اور سچا اطمینان کہ جو ایک دم میں روحانی تبدیلی کا موجب ہوتا ہے وہ ابھی تک تم کو حاصل نہیں۔پس کمال افسوس کی جگہ ہے کہ جس قدرتم رسمی باتوں اور رسمی علوم کی اشاعت کے لئے جوش رکھتے ہو اس کا عشر عشیر بھی آسمانی سلسلہ کی طرف تمہارا خیال نہیں۔تمہاری زندگی اکثر ایسے کاموں کے لئے وقف ہو رہی ہے کہ اوّل تو وہ کام کسی قسم کا دین سے علاقہ ہی نہیں رکھتے اور اگر ہے بھی تو وہ علاقہ ایک ادنیٰ درجہ کا اور اصل مدعا سے بہت پیچھے رہا ہوا ہے۔اگر تم میں وہ حواس ہوں اور وہ عقل جو ضروری مطلب پر جا ٹھہرتی ہے تو تم ہرگز آرام نہ کرو جب تک وہ اصل مطلب تمہیں حاصل نہ ہو جائے۔اے لوگو! تم اپنے سچے خداوند خدا اپنے حقیقی خالق اپنے واقعی معبود کی شناخت اور محبت اور اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔پس جب تک یہ امر جو تمہاری خلقت کی علت غائی ہے بین طور پر تم میں ظاہر نہ ہو تب تک تم اپنی حقیقی نجات سے بہت دُور ہو اگر تم انصاف سے بات کرو تو تم اپنی اندرونی حالت پر آپ ہی گواہ ہو سکتے ہو کہ بجائے خدا پرستی کے ہر دم دنیا پرستی کا ایک قوی ہیکل بت تمہارے دل کے سامنے ہے جس کو تم ایک ایک سکنڈ میں ہزار ہزار سجدہ کر رہے ہو اور تمہارے تمام اوقات عزیز دنیا کی جق جق بک بک میں ایسی مستغرق ہور ہے ہیں کہ تمہیں دوسری طرف نظر اٹھانے کی فرصت نہیں کبھی تمہیں یاد بھی ہے کہ انجام اس ہستی کا کیا ہے! کہاں ہے تم میں انصاف ! کہاں ہے تم میں امانت ! کہاں ہے تم میں وہ راست بازی اور خدا ترسی اور دیانت داری اور فروتنی جس کی طرف تمہیں قرآن بلاتا ہے تمہیں کبھی بھولے بسرے برسوں میں بھی تو یاد نہیں آتا کہ ہمارا کوئی خدا بھی ہے۔کبھی تمہارے دل میں نہیں گزرتا کہ اس کے کیا کیا حقوق تم پر ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ تم نے کوئی غرض کوئی واسطہ کوئی تعلق اُس قیوم حقیقی سے رکھا ہوا ہی نہیں۔اور اس کا نام تک لینا تم پر مشکل ہے۔اب چالاکی سے تم لڑو گے کہ ہرگز ایسا نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تمہیں شرمندہ کرتا ہے جبکہ وہ تمہیں جتلاتا ہے کہ ایمانداروں کی نشانیاں تم میں نہیں۔اگر چہ تم اپنی دنیوی فکروں اور سوچوں میں بڑے زور سے اپنی دانشمندی اور متانت رائے کے مدعی ہو۔مگر تمہاری لیاقت تمہاری نکتہ رسی تمہاری دور اندیشی صرف دنیا کے کناروں تک ختم ہو جاتی ہے۔اور تم اپنی اس عقل کے ذریعہ سے اُس دوسرے عالم کا ایک ذرہ سا گوشہ بھی نہیں دیکھ سکتے جس کی سکونت ابدی کے لئے تمہاری روحیں پیدا کی گئی ہیں۔تم دنیا کی زندگی پر ایسے مطمئن بیٹھے ہو جیسے کوئی شخص ایک چیز ہمیشہ رہنے والی پر مطمئن ہوتا ہے۔مگر