مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 87
AL دردمندانه آواز سے کہا کہ شیرازی حکیم نے بہت ہی غلط کہا۔”رنجانیدن دل جهل است و کفارہ یمین سهل"۔اس پر ان کو دوبارہ وجد ہوا اور چشم پر آب ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے بعد فرمایا۔مولوی نور کریم حکیم ہیں اور بہت لائق۔میں آپ کو ان کے سپرد کر دوں گا اور وہ آپ کو اچھی طرح پڑھائیں گے۔جس پر میں نے عرض کیا کہ ” ملک خدا تنگ نیست پائے مرا لنگ نیست"۔تب آپ پر تیسری دفعہ وجد کی حالت طاری ہوئی اور فرمایا۔ہم نے قسم توڑ دی۔اس کے بعد حکیم صاحب تو گھر کو تشریف لے گئے اور وہ لوگ جو مختلف اغراض اور بیماروں کے لئے آئے تھے۔اپنی اپنی جگہ چلے گئے۔میں نے بھی تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اپنا بوریا بدھنا سنبھالا اور اس مکان سے باہر نکلا۔میرے بھائی صاحب کے دوست علی بخش خاں مرحوم مطبع علوی کے مالک تھے۔میں ان کے مکان پر پہنچا۔وہاں میں نے بڑا آرام پایا۔غسل کیا۔کپڑے بدلے۔خان صاحب نے انار کا ایک خوبصورت درخت دکھایا جو ان کے مطبع والے مکان میں تھا۔اور فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی کی یاد گار ہے۔وہاں آرام پا کر میں مختلف علماء سے جو لکھنؤ میں تھے ملا اور عجیب عجیب باتیں سننے میں آئیں۔آخر علی بخش خان نے مجھے ایک مکان دیا اور روہاں کھانے کا انتظام مجھے خود کرنا پڑا۔جیسے کہ میں کہہ چکا ہوں۔حرفہ کے لئے میرے دماغ میں کوئی بناوٹ نہیں۔اپنی روٹی پکانے کے لئے ایک منطق سے کام لینے لگا۔چولہے میں آگ جلائی۔تو ا رکھا اور روٹی گول بنانے کی یہ ترکیب سوجھی کہ آئے کو بہت پتلا گھول لیا اور ایک برتن کے ذریعہ اس گرم توے پر بلا تھی اور خشکے کے خوبصورت دائرہ کی طرح آٹا ڈال دیا۔جب اس کا نصف حصہ پک گیا تو پلٹنے کے لئے روٹی کو اٹھانے کی فضول کوششیں کی۔ان کوششوں میں روٹی اوپر تک پک چکی تھی۔خیالی فلسفہ نے توے کو اتار کر آگ کے سامنے رکھوایا۔جب عمدہ طور پر اوپر کا حصہ پختہ نظر آیا تو چاقو سے اتارنے کی ٹھری۔مگر چاقو کے ذریعہ اترنے سے بھی اس نے انکار کیا اور مجھے دعا کی توفیق ملی۔اس مکان سے باہر نکل کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر یوں دعا مانگنے لگا۔اے کریم مولا! ایک نادان کے کام سپرد کرنا اپنے بنائے ہوئے رزق کو ضائع کرتا ہے۔یہ کس