مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 86
AY بیٹھتا ہے۔بڑے خوشنما چہرے قرینے سے بیٹھے ہوئے نظر آئے۔نہایت براق چاندنی کا فرش اس ہال میں تھا۔وہ قہقہہ دیوار دیکھ کر میں حیران سا رہ گیا۔کیونکہ پنجاب میں کبھی ایسا نظارہ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔بہر حال اس کے مشرقی دروازے سے (اپنا بستہ اس دروازہ ہی میں رکھ کر) حضرت حکیم صاحب کی طرف جانے کا قصد کیا۔گرد آلودہ پاؤں جب اس چاندنی پر پڑے تو اس نقش و نگار سے میں خود ہی مجوب ہو گیا۔حکیم صاحب تک بے تکلف جا پہنچا اور وہاں اپنی عادت کے مطابق زور سے السلام علیکم کہا جو لکھنو میں ایک نرالی آواز تھی۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ حکیم صاحب نے وعلیکم السلام زور سے یا دبی آواز سے کہا ہو مگر میرے ہاتھ بڑھانے سے انہوں نے ضرور ہی ہاتھ بڑھایا اور خاکسار کے خاک آلودہ ہاتھوں سے اپنے ہاتھ آلودہ کئے اور میں دو زانو بیٹھ گیا۔یہ میرا دو زانو بیٹھنا بھی اس چاندنی کے لئے جس عجیب نظارہ کا موجب ہوا وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے جو اراکین لکھنؤ سے تھا اس وقت مجھے مخاطب کر کے کہا۔آپ کس مہذب ملک سے تشریف لائے ہیں ؟ میں تو اپنے قصور کا پہلے ہی قائل ہو چکا تھا۔مگر ” خد اشترے برانگیزد که خیر ما دراں باشد " میں نے نیم نگاہی کے ساتھ اپنی جوانی کی ترنگ میں اس کو یہ جواب دیا کہ یہ بے تکلفیاں اور السلام علیکم کی بے تکلف آواز وادی غَیر ذی ذرع کے امی اور بکریوں کے چرواہے کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فداہ ابی و امی۔اس میرے کہنے کی آواز نے بجلی کا کام دیا اور حکیم صاحب پر وجد طاری ہوا اور وجد کی حالت میں اس امیر کو کہا کہ آپ تو بادشاہ کی مجلس میں رہے ہیں کبھی ایسی زک آپ نے اٹھائی ہے؟ اور تھوڑے وقفہ کے بعد مجھ سے کہا کہ آپ کا کیا کام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ میں اب بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور پڑھانے سے مجھے ایک انقباض ہے میں خود تو نہیں پڑھا سکتا۔میں نے قسم کھائی ہے کہ اب نہیں پڑھاؤں گا۔میری طبیعت ان دنوں بہت جو شیلی تھی اور شاید سر کا بقیہ بھی ہو اور حق تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہی کے کام ہوتے ہیں۔منشی محمد قاسم صاحب کی فارسی تعلیم نے یہ تحریک کی کہ میں نے جوش بھری اور